غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعدہ اعلان، وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کر دئیے

امریکی صدر نے غزہ بورڈآف پیس کے مسودے کا باقاعدہ اعلان کر دیا فائل فوٹو امریکی صدر نے غزہ بورڈآف پیس کے مسودے کا باقاعدہ اعلان کر دیا

امریکی صدر نے غزہ بورڈآف پیس کے مسودے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کر دیئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کے مشکور ہیں۔ اور رکن ممالک قابل احترام ہیں۔

تمام ممالک مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔ حالانکہ ایک وقت تھا جب اس خطے میں امن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں ناممکن اور بڑے بڑے کام ممکن بنائے گئے۔ اور وہ اب تک آٹھ جنگیں رکوا چکے ہیں۔ وہ یوکرین میں امن کے قیام کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

جبکہ ان کے دور میں امریکی معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اور انہوں نے ان کے درمیان تناؤ کم کرانے میں کردار ادا کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نے ان سے کہا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایک کروڑ لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔

غزہ اور حماس سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو پھر اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں داعش مضبوط ہوئی۔ جبکہ اپنے پہلے دور صدارت میں انہوں نے داعش کے سربراہ کو ختم کیا تھا۔

ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے۔ تو امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اور امریکی سرحدوں کو منشیات مافیا سے پاک کیا جائے گا۔

وینزویلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں کے حوالے سے اچھے اقدامات کیے گئے ہیں۔ جس سے وینزویلا کے عوام خوش ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وینزویلا کی نئی قیادت سے رابطے میں ہیں۔ اور اس ملک کے پاس دنیا کے 62 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا نے آج دنیا کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔ اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایران، اسرائیل، مصر اور ایتھوپیا کے درمیان تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کیا۔ جبکہ شامی صدر سے بات چیت کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم اگلے ہفتے چین جائینگے ، سنہری دور کے تجارتی مذاکرات کی بحالی کا امکان

امریکی صدر نے نیٹو ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کے علاوہ نیٹو کے تمام ممالک نے دفاعی اخراجات میں 5 فیصد اضافہ کیا ہے۔

ایک سال پہلے دنیا کی صورتحال مختلف تھی۔ تاہم اب عالمی سطح پر امن اور استحکام کی جانب پیشرفت ہو رہی ہے۔

install suchtv android app on google app store