پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کردیا، بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارے امیدوار قومی، پنجاب اور خیبرپختون خوا اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کریں گے۔اس بات کا اعلان پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہیر، عمر ایوب نے ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر، عمر ایوب اور حسن روف نے مجلس وحدت المسلمین کے رہنما راجہ ناصر عباس اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما حامد رضا کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے حمایت یافتہ امیدوار تمام صوبوں میں جیتے ہیں، ہمارے حساب سے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی 180 نشستیں جیت چکی ہے، ہمارے امیدوار قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور کے پی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کو جوائن کریں گے، ہم وفاق اور ان صوبوں میں اپنی حکومت بنائیں گے، ہم نے یہ قدم مخصوص نشستوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں خصوصی نشستوں کے لیے درخواست دائر کریں گے، الیکشن کمیشن میں آج امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت کے دستاویز جمع کروادیں گے۔
پی ٹی آئی کے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار عمر ایوب نے کہا کہ وفاق میں ہماری ہی پارٹی حکومت بنائے گی اس کے ساتھ صوبوں میں بھی حکومت ہم ہی بنائیں گے، حکومت میں آتے ہی عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، پرویز الہی، خواتین ورکرز اور کارکنان کو جیلوں سے رہا کرائیں گے۔
انہوں ںے مزید کہا کہ فارم 45 کے مطابق فارم 47 بننا چاہیے، پشاور سے ہماری سات سے آٹھ نشستوں پر ڈی سی اور دیگر نے دھاندلی کی۔
تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے حکومت بنا کر سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ ا ایم ڈبلیو ایم کی پی ٹی آئی کی حمایت پر شکریہ اداکرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں، میں ایم ڈبلیو ایم کا تہہ دل سے مشکور ہوں، ایم ڈبلیو ایم نے ہمیشہ پی ٹی آئی، بانی کی حمایت کی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے بتایا کہ الیکشن میں دھاندلی کر کے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، حیدرآباد اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سندھ اور کراچی میں ہمارے مینڈیٹ پرڈاکا ڈالا ہے، ہمارے امیدواروں کے فارم 47 تبدیل کیے گئے ہیں۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ واریت نہیں بلکہ اتحاد چاہتے ہیں، ہم فرقہ واریت کے خلاف ہیں۔
سابق وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی ہمارا ایجنڈا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اس اتحاد کے فیصلے میں عمران خان کے ساتھ ہیں، عمران خان کے غلامی سے آزادی کے نعرے کے ساتھ ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ہمارا اتحاد نیا نہیں یہ اتحاد گزشتہ آٹھ سال سے ہے، مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کا یہ فیصلہ باہمی مشاورت سے ہوا ہے، ہم فرقہ واریت کے خلاف ہیں اپنا مسلک چھوڑو نہیں کسی کو چھوڑو نہیں پر عمل پیرا ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ تمام مسالک ہیں اور ساتھ اقلیتیں بھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم فرقہ واریت کے خلاف ہیں اسی لیے پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں کیوں کہ اس ملک میں سب سے زیادہ فرقہ واریت کو پھیلانے میں ملوث جماعت مسلم لیگ (ن) ہے اور ان کا رہنما رانا ثنا اللہ ہے۔