بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ سول جج قدرت اللہ نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 5 ،5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت میں نکاح سے متعلق کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا، ان کے ملازم لطیف، مفتی سعید اور نکاح کے گواہ عون چوہدری سمیت دیگر گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔
پسِ منظر
25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔
خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔
28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔
5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔
11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا۔
2 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی۔
10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔
15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے غیرشرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تاہم 16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی۔
31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
گزشتہ روز 2 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا
عدالت نے دونوں کو کسی بھی عوامی عہدے کیلئے 10 سال کیلئے ناہل قرار دیا تھا، دونوں ملزمان پر کل ایک ارب 57 کروڑ40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سائفر کیس میں عمران خان، شاہ محمود کو 10،10 سال قید کی سزا
اس سے ایک دن پہلے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بھی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی