ماہرینِ غذائیت کے مطابق حالیہ دنوں میں “فائبر مکسنگ” نامی ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس کا مقصد روزمرہ غذا میں فائبر کی مناسب مقدار شامل کرنا ہے تاکہ آنتوں کی صحت بہتر بنائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق فائبر ہاضمے کے نظام کو درست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے باقاعدہ استعمال سے دل کی بیماری، ذیابیطس، موٹاپے اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
فائبر مکسنگ کیا ہے؟
فائبر مکسنگ دراصل روزانہ غذا میں مختلف فائبر سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنے کا طریقہ ہے تاکہ جسم کو مطلوبہ مقدار میں فائبر مل سکے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد روزانہ درکار فائبر نہیں لے پاتے۔ غذائی رہنما اصولوں کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 22 سے 34 گرام فائبر استعمال کرنا چاہیے۔
فائبر کی اقسام
1۔ حل پذیر فائبر
یہ پانی میں گھل کر جیل جیسا مادہ بناتا ہے جو ہاضمے کو سست کرتا ہے اور پیٹ بھرنے کا احساس بڑھاتا ہے۔ یہ درج ذیل غذاؤں میں پایا جاتا ہے:
سیب
کیلےایوکاڈو
بروکلی
پھلیاں
جئی
2۔ غیر حل پذیر فائبر
یہ پانی میں نہیں گھلتا اور آنتوں کی حرکت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ قبض سے بچاتا ہے۔ اس کی اہم غذائیں سارا اناج، گریاں اور بیج ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزانہ کی خوراک میں تقریباً دو تہائی غیر حل پذیر اور ایک تہائی حل پذیر فائبر ہونا چاہیے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائبر کی مقدار آہستہ آہستہ بڑھانی چاہیے کیونکہ اچانک زیادہ فائبر لینے سے قبض، پیٹ درد اور دست جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس کے ساتھ زیادہ پانی پینا بھی ضروری ہے تاکہ فائبر بہتر انداز میں کام کر سکے۔
اگر خوراک سے مطلوبہ مقدار میں فائبر حاصل نہ ہو سکے تو ماہرین کے مشورے سے فائبر سپلیمنٹس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔