مٹی کے گھڑے کے استعمال میں 5 بڑی غلطیاں، صحت کیلئے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں

گرمیوں کے موسم میں بہت سے گھرانوں میں فریج کے بجائے مٹی کے گھڑے یا مٹکے کا پانی پینا پسند کیا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر ٹھنڈا اور صحت بخش ہونے کی وجہ سے اسے اکثر ”دیسی فریج“ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مٹی کے مٹکے میں رکھا پانی نہ صرف ٹھنڈا رہتا ہے بلکہ اس کی الکلائن خصوصیات جسم کے پی ایچ لیول کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔

تاہم اگر مٹکے کی صفائی اور استعمال میں احتیاط نہ برتی جائے تو یہی پانی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مٹی کے گھڑے کے استعمال میں عام غلطیاں

1۔ صابن یا ڈٹرجنٹ سے مٹکا دھونا

مٹکے کو ہر دو سے تین دن بعد خالی کر کے صاف کرنا ضروری ہے، لیکن اسے صابن یا ڈٹرجنٹ سے دھونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مٹی کے باریک سوراخ کیمیکلز کو جذب کر لیتے ہیں جو بعد میں پانی میں شامل ہو کر معدے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

2۔ پانی نکالتے وقت ہاتھ یا گلاس اندر ڈالنا

کئی لوگ مٹکے سے پانی نکالتے وقت ہاتھ یا گلاس اندر ڈال دیتے ہیں، جس سے پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ لمبے دستے والا ڈونگا استعمال کریں یا ٹونٹی والا مٹکا رکھیں۔

3۔ مٹکے کو دھوپ میں رکھنا

براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے پانی گرم ہو سکتا ہے اور مٹی کی قدرتی ٹھنڈک برقرار نہیں رہتی۔ مٹکے کو ہمیشہ ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر رکھنا چاہیے۔

4۔ پرانا مٹکا تبدیل نہ کرنا

مٹی کے گھڑے کی بھی ایک مدت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ اس کے سوراخ بند ہو جاتے ہیں اور پانی ٹھنڈا نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق ہر سال نیا مٹکا استعمال کرنا بہتر ہے۔

5۔ ڈھکن کی صفائی نظر انداز کرنا

اکثر لوگ مٹکے کو تو صاف کر لیتے ہیں مگر اس کے ڈھکن کو صاف نہیں کرتے۔ ڈھکن پر جمی دھول پانی کو آلودہ کر سکتی ہے، اس لیے صاف اور اچھی طرح فٹ ہونے والا ڈھکن استعمال کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین کے مطابق اگر مٹی کے گھڑے کو ہر 2 سے 3 دن بعد صاف کیا جائے اور صحیح جگہ پر رکھا جائے تو اس کا پانی گرمیوں میں نہ صرف قدرتی ٹھنڈک دیتا ہے بلکہ صحت کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

install suchtv android app on google app store