اگر آپ کمر درد، ہلکی بے آرامی یا حتیٰ کہ دائمی درد سے پریشان ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
فزیکل تھراپی سینٹرل کی ڈائریکٹر اور فزیکل تھراپسٹ ڈیون ٹراچمین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک بیٹھنا یا کھڑے رہنا، یا بار بار ایک ہی پوزیشن میں عضلات کا استعمال، ریڑھ کی ہڈی اور ارد گرد کے ٹشوز پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ٹراچمین کے مطابق، اگر آپ سر کو آگے جھکاکر بیٹھتے ہیں تو گردن اور اوپری کمر کے عضلات زیادہ محنت کرتے ہیں، جس سے تھکن، تناؤ اور درد بڑھتا ہے۔
اسی طرح، اگر آپ گھٹنوں کو لاک کرکے کھڑے رہیں یا وزن ایک ٹانگ پر منتقل کر دیں، تو یہ نچلی کمر پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے اور عضلاتی تھکن پیدا کر سکتا ہے۔
ٹراچمین نے تین آسان ورزشیں تجویز کی ہیں جو ہپس، کور اور اوپری کمر کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں، اور درد کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہیں:
پہلی ورزش: دیوار کے ساتھ بازوؤں کی ورزش
دیوار کے ساتھ سر، کندھے، کمر اور ہپس ٹکا کر کھڑے ہوں۔ بازوؤں کو کندھوں کی اونچائی پر 90° کے زاویے پر موڑیں اور ہاتھوں کی پشت دیوار سے لگائیں، پھر آہستہ آہستہ ہاتھوں کو اوپر کریں اور واپس لائیں۔
دوسری ورزش: ہپ اسٹریچ
گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دائیں پاؤں کو آگے رکھیں، گھٹنا 90° کے زاویے پر ہو اور ایڑھی سیدھی ہو۔ ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھتے ہوئے پیلوِس تھوڑا سا اندر کریں اور وزن آگے منتقل کریں، جب تک کہ بائیں ہپ میں کھچاؤ محسوس نہ ہو۔ 30 سیکنڈ کے لیے رکیں اور دہرائیں، پھر سمت بدلیں۔
تیسری ورزش: کور برِیِس
کرسی پر سیدھا بیٹھیں، پیٹھ سیدھی اور پاؤں فرش پر رکھیں۔ ہلکا سا پیٹ کو تنگ کریں جیسے جینز کو زپ کر رہے ہوں۔ معمول کے مطابق سانس لیں، 10 سیکنڈ تک رکیں، پھر آرام کریں اور دہرائیں۔
ٹراچمین کے مطابق، ریڑھ کی ہڈی کو مختلف قسم کی ورزش، سپورٹ اور طاقت فراہم کرنے سے درد میں بہتری آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔