برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج نے فالج کے مریضوں کے لیے ایک جدید اے آئی کالر ڈیوائس متعارف کرائی ہے، جو گلے کے سگنلز کو قدرتی اور روان آواز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، ری وائس نامی یہ اے آئی ڈیوائس مریض کے گلے میں پہنائی جاتی ہے اور اس کے ذریعے اسپیچ سگنلز کے ساتھ دل کی دھڑکن سے سگنلز حاصل کیے جاتے ہیں۔
بعد ازاں، مصنوعی ذہانت کے ذریعے یہ سگنلز ڈی کوڈ کیے جاتے ہیں، جس سے الفاظ فصیح اور روان جملوں میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
مطالعے کے نتائج کے مطابق، اس ڈیوائس نے لفظوں کی درستگی میں تقریباً 96 فیصد اور جملوں کی درستگی میں 97 فیصد حاصل کی، جو فالج یا دیگر نیورولوجیکل مسائل کے شکار مریضوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
یہ ڈیوائس مریض کی جانب سے بولے بغیر کیے گئے الفاظ اور جذبات کو بھی پہچان سکتی ہے اور انہیں جملوں میں تبدیل کر سکتی ہے، جس سے مریض روزمرہ گفتگو میں اعتماد کے ساتھ حصہ لے سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سٹروک کے مریضوں کے لیے مددگار ثابت ہوگی بلکہ مستقبل میں پارکنسنز اور دیگر نیورولوجیکل بیماریوں میں بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔
ری وائس ڈیوائس نہ صرف سادہ اور آرام دہ ہے بلکہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی موزوں ہے، اور مریضوں کو اپنی سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں دوبارہ مؤثر انداز میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔