عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں کم ٹیکس پالیسیوں کے باعث میٹھی اور الکوحل مشروبات سستی ہو چکی ہیں، جو بالخصوص بچوں میں موٹاپا، ذیابیطس، دل کے امراض، کینسر اور حادثات جیسے سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہیں۔
گزشتہ جاری کردہ رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ میٹھی مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس میں نمایاں اضافہ کریں تاکہ نقصان دہ استعمال میں کمی اور صحت کے شعبے کے لیے وسائل حاصل کیے جا سکیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریاسس نے کہا کہ تمباکو، میٹھی مشروبات اور شراب جیسی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر حکومتیں نہ صرف مضر صحت استعمال کم کر سکتی ہیں بلکہ صحت کی بنیادی سہولیات کے لیے فنڈز بھی حاصل کر سکتی ہیں۔