حمل کے دوران پیراسیٹامول کے استعمال کو بچوں میں آٹزم سے جوڑنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع بیان کو ایک بڑی اور معتبر بین الاقوامی سائنسی تحقیق نے دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق میں واضح طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ حمل کے دوران پیراسیٹامول کے استعمال اور بچوں میں آٹزم، اے ڈی ایچ ڈی (توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ سرگرمی کی بیماری) یا ذہنی معذوری کے درمیان کوئی سائنسی تعلق موجود نہیں ہے۔
حالیہ تحقیق، جو معروف طبی و سائنسی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئی، میں ماہرین نے اس معاملے کا تفصیلی اور منظم جائزہ لیا۔
تحقیق کے دوران 43 ایسے بڑے مطالعات کا تجزیہ کیا گیا جو سخت سائنسی معیار پر پورا اترتے تھے۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر لاکھوں بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ شامل تھا۔
تحقیق کے مطابق 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد بچوں میں آٹزم، 3 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی اور 4 لاکھ 6 ہزار سے زائد بچوں میں ذہنی معذوری کے کیسز کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ حمل کے دوران پیراسیٹامول کے استعمال اور ان بیماریوں کے درمیان کسی قسم کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراسیٹامول دنیا بھر میں درد اور بخار کے علاج کے لیے عام طور پر استعمال کی جاتی ہے اور مناسب مقدار میں، ڈاکٹر کے مشورے سے اس کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر سائنسی دعوے عوام میں بلاوجہ خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں، اس لیے صحت سے متعلق معلومات ہمیشہ مستند سائنسی تحقیق کی بنیاد پر ہی قبول کی جانی چاہئیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ستمبر میں خواتین کو حمل کے دوران پیراسیٹامول کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد عالمی سطح پر اس بیان پر شدید بحث شروع ہو گئی تھی اور طبی ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔