عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی کی رفتار بڑھ جاتی ہے مگر درمیانی عمر میں ایک عام عادت کو اپنا کر آپ اس کی روک تھام کرسکتے ہیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل آف اسپورٹس اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش کے ایک سادہ مگر مستحکم معمول کو اپنا کر دماغ کو حیاتیاتی طور پر جوان رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یعنی مضبوط یادداشت اور دیگر دماغی افعال عمر میں اضافے کے ساتھ متاثر نہیں ہوتے، بلکہ زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد ایروبک ورزشوں کو معمول بنا لیتے ہیں، ان کا دماغ اصل عمر سے زیادہ جوان محسوس ہوتا ہے۔
ایروبک ورزشیں تیز رفتاری سے چہل قدمی، دوڑنے، تیراکی، سیڑھیاں چڑھنے اور سائیکل چلانے جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
ان ورزشوں سے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانس پھول جاتی ہے، جس سے دل اور نظام تنفس سے جڑی صحت بہتر ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں 26 سے 58 سال کی عمر کے 130 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں معتدل سے سخت ایروبک ورزشیں کرنے یا معمول کے مطابق زندگی گزارنے کی ہدایت کی گئی۔
ورزش کرنے والے گروپ میں شامل افراد کو ہر ہفتے 2 بار 60 منٹ تک ورزش کے سیشنز کا حصہ بنایا گیا تاکہ ہر ہفتے جسمانی سرگرمیوں کا دورانیہ 150 منٹ تک پہنچ سکے۔
ایم آر آئی اور کارڈیو فٹنس کا تجزیہ تحقیق کے آغاز اور ایک سال بعد اس کے اختتام پر کیا گیا۔
ایک سال کے دوران ورزش کرنے والے گروپ میں شامل افراد کی دماغی عمر میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل افراد کی دماغی عمر معمولی سی بڑھ گئی۔
مجموعی طور پر ورزش والے گروپ کے افراد کی دماغی عمر میں اوسطاً 0.6 سال کی کمی آئی جبکہ دوسرے گروپ کے افراد کی دماغی عمر 0.35 سال بڑھ گئی۔
محققین نے بتایا کہ بظاہر یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے مگر سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دماغی عمر میں معمولی اضافہ بعد کی زندگی میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ درمیانی عمر میں دماغ کو جوان رکھنے کی کوشش شروع کرنا بہت اہم ہے۔
اس سے قبل نومبر 2024 میں سویڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ درمیانی عمر میں زیادہ ایروبک ورزشیں کرنے سے دماغی تنزلی سے خود کو بچانے میں مدد ملتی ہے۔
اس تحقیق میں 39 سے 70 سال کی عمر کے 61 ہزار سے زائد ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔
ان افراد کی کارڈیو فٹنس کو 2009 اور 2010 میں جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا گیا اور ساتھ میں دماغی افعال اور جینیاتی خطرے کا تجزیہ بھی کیا گیا۔
اس کے 12 سال بعد ان افراد کی صحت کا دوبارہ جائزہ لے کر دیکھا گیا کہ فٹنس اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق کتنا مضبوط ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 20 اور 30 سال سے زائد عمر کے افراد کی کارڈیو فٹنس اچھی ہو تو 70 سال یا اس سے زائد عمر کے بعد ڈیمینشیا کا خطرہ 20 فیصد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی فٹنس دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کارڈیو فٹنس سے دماغ کے تیزی سے سوچنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوتی ہے۔