طویل وقت بیٹھنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہورہا ہے لیکن اب گھر سے کام کرنے والوں کے لیے خوش خبری آگئی ہے۔
حالیہ سرویز کے مطابق آسٹریلیا میں 67 لاکھ سے زائد افراد، یعنی تقریباً نصف ورک فورس جزوی یا مکمل طور پر گھر سے کام کر رہی ہے۔
گھر سے کام کرنے کے بڑھتے رجحان کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگ طویل وقت تک بیٹھے رہتے ہیں جو اب صحت کے لیے نقصان دہ تسلیم کیا جاچکا ہے۔
اکثر افراد پورا دن کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور کام ختم ہونے کے بعد بھی صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس دفتر جانے کی صورت میں قدرتی طور پر جسمانی حرکت بڑھ جاتی ہے، جیسے پیدل چلنا، کھڑے ہوکر بات کرنا یا کھانے کے لیے باہر جانا۔
چونکہ بہت سے افراد روزانہ مطلوبہ جسمانی سرگرمی پوری نہیں کرپاتے اس لیے ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا میز کے نیچے چلنے والی مشین یا واکنگ پیڈ استعمال کرکے کام کے دوران چلا جاسکتا ہے؟
تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ پیدل چلنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ مطالعات کے مطابق باقاعدہ چہل قدمی سے بلڈ پریشر بہتر ہوتا ہے، شوگر کنٹرول میں رہتی ہے اور مجموعی صحت میں بہتری آتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے لیے وقت کی مخصوص حد ضروری نہیں بلکہ ہر حرکت فائدہ مند ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ طویل وقت بیٹھنے کے بجائے بار بار مختصر وقفوں میں چلنا صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوسکتا ہے۔
اسی بنیاد پر ماہرین کا خیال ہے کہ کام کے دوران وقفے وقفے سے چلنے کی سہولت فراہم کرنے والی میز صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
محدود تحقیقی مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ اس طریقے سے چربی میں کمی، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں بہتری اور جسمانی میٹابولزم بہتر ہوسکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے طویل عرصے تک اپنایا جائے۔
تاہم کچھ افراد کو چلتے ہوئے ٹائپنگ یا ماؤس استعمال کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ذہنی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی مگر باریک کام کے لیے یہ طریقہ ہر کسی کے لیے موزوں نہیں۔ ایسے افراد کے لیے آواز کے ذریعے ٹائپ کرنے کی سہولت ایک متبادل ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کا سیٹ اپ صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے مگر خریداری سے پہلے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا محض میز سے اٹھ کر باقاعدگی سے چہل قدمی کرنا زیادہ آسان اور کم خرچ حل نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات چھوٹی سی جسمانی تبدیلی بھی صحت میں بڑا فرق پیدا کرسکتی ہے۔