اگر کسی کو کینسر ہو جائے تو یہ کام کرنا مت بھولیں

یہ کینسر کے خلیے کی ساخت ہے فائل فوٹو یہ کینسر کے خلیے کی ساخت ہے

کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان روز جیتا اور روز مرتا ہے، جب مریض کا مدافعتی نظام کینسر اور علاج سے کمزور ہوجاتا ہے تو مزید بیماریوں کے حملوں سے محفوظ رہنا ناممکن ہوجاتا ہے

جسم میں بیکٹیریا ،پیراسائٹس یا وائرس کے خلاف کم دفاع ہوتا ہے جو کھانے میں پائے جاسکتے ہیں۔ کھانے اور مشروبات میں موجود جراثیم بعض اوقات معدے (جی آئی) کی نالی کی بیماری یا انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں اس قسم کی بیماری کو غذائی بیماری یا فوڈ پوائزننگ کہا جاتا ہے

اگر کینسر کا علم یا تشخیص جلدی ہوجائے تو اس کا علاج اور اسے جسم سے نکالنا آسان ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ اگر گھر کے کسی فرد کو کینسر تشخیص ہوا ہے تو گھر کے دیگر افراد خصوصاً مریض کی عمر سے دس سال بڑے اور دس سال چھوٹے افراد کی انڈو اسکوپی لازمی کرانی چاہیے۔

اگر پاخانے میں خون کی شکایت ہو تو زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بواسیر ہے اور فٹ پاتھوں اور دکانوں پر بیٹھے نام نہاد حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کے ہاتھوں بے وقوف بن جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ بواسیر نہیں کینسر کی ہی ایک قسم ہے جس کا فوری معائنہ کرنا لازمی ہے۔

کینسر سے بچاؤ کیلیے اپنے طرز زندگی اور غذاؤں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی جس کیلیے کچھ اشیا سے مکمل پرہیز کرنا ہوگا جس میں تمباکو نوشی، شراب نوشی، خراب خوراک کا استعمال ، اور ورزش سے دور رہنا وغیرہ شامل ہیں۔

تمباکو نوشی پھیپھڑوں، گلے اور دیگر کینسر کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ شراب کا زیادہ استعمال جگر، گلے اور چھاتی کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

خراب خوراک میں ایسی غذا جس میں پروسیسڈ فوڈز بہت زیادہ ہوں لیکن کم پھل اور سبزیاں کینسر کے خطرات کو بڑھاتی ہیں۔

ورزش نہ کرنا کافی جسمانی سرگرمی کی کمی اس کے ساتھ ایک سے زیادہ قسم کے کینسر لے جاتی ہے۔ موٹاپا کئی قسم کے کینسر کے خطرات کو بڑھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

install suchtv android app on google app store