اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور دیگر اسکرینوں کا بہت زیادہ استعمال اکثر دماغی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے۔
مگر صرف اسکرین ٹائم ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر گزارے جانے والا وقت انزائٹی، ڈپریشن اور دیگر دماغی مسائل میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں 18 سے 24 سال کی عمر کے لگ بھگ 400 افراد کو شامل کیا گیا۔
تحقیق کے دوران انہیں اسمارٹ فونز معمول کے مطابق استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ ایک ایپ کے ذریعے ان کے سوشل میڈیا سائٹس کے استعمال کے بارے میں تفصیلات کو اکٹھا کیا گیا۔
اسی طرح روزانہ کتنے قدم چلے، نیند کے دوران اور دیگر تفصیلات کو بھی اکٹھا کیا گیا۔
2 ہفتے بعد ان افراد سے سوالنامے بھروا کر انزائٹی، ڈپریشن، تنہائی اور بے خوابی کے بارے میں تفصیلات حاصل کی گئیں۔
اس کے بعد تحقیق میں شامل 80 فیصد افراد کو ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کے استعمال کا دورانیہ محدود کرنے کی ہداہت کی گئی، البتہ اسمارٹ فونز کے استعمال سے نہیں روکا گیا۔
اس عرصے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کا دورانیہ روزانہ 2 گھنٹے سے کم کرکے 30 منٹ کر دیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کے لیے فیس بک اور ایکس سے دور ہونا آسان ہوتا ہے مگر ٹک ٹاک، انسٹا گرام اور اسنیپ چیٹ کے دورانیے میں کمی لانا مشکل ثابت ہوتا ہے۔
ایک ہفتے بعد ان افراد میں دماغی صحت کے مسائل گھٹ گئے، جیسے ڈپریشن کی علامات میں 24 فیصد، انزائٹی میں 16 فیصد اور بے خوابی کے مسئلے میں 14 فیصد کمی آئی۔
محققین نے بتایا کہ سائیکو تھراپی یا نفسیاتی علاج سے دماغی صحت کی علامات میں اتنی کمی لانے میں 8 سے 12 ہفتے لگتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے رویوں میں تبدیلی لاکر ایسا ایک ہفتے میں ہوگیا جو کہ واقعی حیران کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دماغی صحت کے درمیان منفی تعلق کے حوالے سے شواہد ملے جلے ہیں اور اتنے سادہ نہیں جتنے تصور کیے جاتے ہیں۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ اس میں 2 گروپس نہیں بنائے گئے، یعنی ایک گروپ کو سوشل میڈیا کا استعمال معمول کے مطابق جاری رکھنے کی ہدایت کی جاتی جبکہ دوسرے کے لیے استعمال محدود کیا جاتا اور پھر دونوں کے نتائج کا موازنہ کیا جاتا۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا سے وقفہ لینا فائدہ مند ہوتا ہے اور ضروری نہیں مکمل دوری اختیار کرلی جائے، بس استعمال کے دورانیے کو کم کرنے سے بھی دماغی صحت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔
محققین کے مطابق اگر آپ دماغی امراض کا علاج کرا رہے ہیں تو سوشل میڈیا سے وقفے لینا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، تاکہ آپ زیادہ جلد صحت مند ہوسکیں۔