ماضی کے معروف اداکار عبدالباسط خان نے دو دہائیوں بعد انکشاف کیا کہ انہوں نے بیوی کی خواہش کے مطابق اداکاری چھوڑ دی تھی۔ عبدالباسط خان نے 1980 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ساتھ ہی سرکاری ملازمت بھی کرتے رہے۔
حال ہی میں نجی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران انہوں نے مختلف امور پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ اداکاری ان کے لیے ذریعہ معاش نہیں بلکہ شوقیہ تھی۔
عبدالباسط خان اس وقت واحد بیوروکریٹ تھے جنہوں نے اداکاری شروع کی اور جلد ہی شہرت بھی حاصل کی۔
ان کے مطابق انہوں نے 2001 میں آخری ڈراما کیا، اور فلموں میں کام کی پیشکشیں آئیں، لیکن انہوں نے گھر اور بچوں کی خاطر مزید شوبز میں حصہ نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ اہلیہ نے ان سے کہا کہ انہوں نے ایک بیوروکریٹ سے شادی کی تھی، نہ کہ اداکار، اور انہیں گھر اور خاندان کو وقت دینا چاہیے۔
عبدالباسط خان کے مطابق ان کی اداکاری کی تعریفیں معین اختر جیسے اداکاروں نے بھی کی اور اپنی تعریفیں سننے کے بعد وہ مسلسل کام کرتے رہنے کا ارادہ بھی کرتے تھے لیکن بیوی کے کہنے پر انہوں نے شوبز چھوڑا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بیوی نے انہیں کہا کہ اگر وہ بھی کوئی کام کر رہی ہوتیں تو کوئی بات نہیں تھی لیکن چوں کہ وہ گھریلو خاتون ہیں۔
پورا دن گھر میں رہتی ہیں، اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ ان کے شوہر بھی ملازمت کے بعد گھر آجایا کریں، بیوی اور بچوں کو وقت دیں۔
ان کے مطابق وہ دفتر سے چھٹی ہونے کے بعد ڈراموں کی شوٹنگ پر چلے جاتے، جس وجہ سے وہ زیادہ تر رات کو دیر گئے گھر آتے، جس پر ان کی اہلیہ ناراض ہوتی تھیں۔
عبدالباسط خان نے کہا کہ ان کے کئی سال تک مسلسل تاخیر سے آنے کے بعد ان کی اہلیہ نے ایک دن سخت لہجے میں ان سے کہا کہ وہ اداکاری اور گھر میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کریں، جس پر انہوں نے گھر کا انتخاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں بیوی کے کہنے پر شوبز چھوڑنے پر کوئی افسوس نہیں، وہ بہت خوش ہیں اور انہوں نے اچھی زندگی گزاری، بیوی اور بچوں کو وقت دیا اور تمام خوشیاں پائیں۔