کامیابی مہارت سے مشروط ہے

کامیابی مہارت سے مشروط ہے فائل فوٹو کامیابی مہارت سے مشروط ہے

یہ قصہ ہے نامور مصور پیبلوپکاسو کا جن کے نام سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو ۔ مشہور مصور ایک مرتبہ نیو یارک کی سٹریٹ میں چہل قدمی کر رہے تھے کہ وہاں ان کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی ۔ اتفاق سے وہ خاتون پبلوپکاسو کو جانتی تھیں اپنی اسی واقفیت کی بنا پر انھوں نےپکاسو سے ایک پینٹنگ بنانے کی درخواست کی ۔

ہسپانوی مصور نے اس خاتون کے لئے ایک کاغذ پر پنسل کی مدد سے خاکہ کھینچ کر کہا کہ ’’ یہ پینٹنگ پچاس لاکھ کی ہے ۔‘‘ خاتون نے اس بات پر یقین نہ کیا اور کئی آرٹ کی دکانوں پر چلی گئیں جہاں انھوں نے اس فن پارے کی قیمت معلوم کی ۔
حیرت انگیز طور پر تمام افراد نے اسے یہی کہا کہ یہ پکاسکو کی مصوری ہے اور اسکی لاگت کم سے کم بھی پچاس لاکھ ہے ۔ وہ خاتون یہ سن کر بہت حیران ہوئی اور پکاسکو کو ڈھونڈتی رہی بالاخر تصویروں کی ایک نمائش میں اسکی ملاقات مذکورہ مصور سے ہوئی جس سے اس نے کہا کہ’’ واقعی آُ پ کی پینٹنگ تو پچاس لاکھ کی ہے اور وہ پینٹنگ تو آُپ نے ۳۰ سیکنڈ میں بنائی تھی آخر ایسا کیا جادو تھا آپ کے ہاتھ میں جو تیس سیکنڈ میں بنائی گئی تصویر پچاس لاکھ میں فروخت ہو رہی ہے ؟ ‘‘
پیبلو پکاسکو نے جواب دیا کہ ’’ میں جانتا ہوں کہ اسکی قیمت پچاس لاکھ ہے اور میں نے وہ محض تیس سیکنڈ میں ہی بنائی تھی لیکن جو تصویر میں نے تمھیں ۳۰ سیکنڈ میں بنا کر دی ان جیسی تصویروں کے بنانے میں اور محنت کرنے میں مجھے ۳۰ سال لگ گئے ْ ۔‘‘
یعنی مہارت اور کامیابی ان دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔ جس کام کی جتنی بھی بار بار مشق کی جائے وہ اتنا ہی آسان لگنے لگتا ہے اور اس میں کامیابی صاف جھلکنے لگتی ہے ۔ہمارے ہاں ایک المیہ یہ ہے کہ لوگوں کی کامیابیوں پر انھیں کریڈٹ نہیں دیا جاتا ہاں ان کی ناکامی کا اشتہار ہر جگہ لگا دیا جاتا ہے ۔
ہم کسی کی بھی کامیابی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں کہ فلاں بہت امیر ہے اسکے پاس بہت مال و دولت ہے یا اسے بہت شہرت مل رہی ہے ۔ ہم رشک و حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اس سب کے پیچھے اسکی کتنے عرصے کی محنت موجود ہے ۔
یہاں میں حلال طریقے سے کمائے گئے رزق اور نیک نامی سے حاصل کردہ شہرت کے بارے میں بات کر رہی ہوں ۔ ہمارے معاشرے کی ایک برائی یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کو نصیحت کرتے تھکتے نہیں اور اپنی باری پر وہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے والا حساب کرتے ہیں ۔
چونکہ لوگ ایک دوسرے کی کامیابی کو برداشت نہیں کر سکتے تو ایک ایسا ماحول تشکیل دے دیا جاتا ہے تاکہ لوگ کامیاب لوگوں کو اہمیت نہ دیں ۔لیکن کامیاب لوگ بار بار کی کوشش اور محنت سے کبھی ہار نہیں مانتے وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے ۔ طالب علم ہوں تو خوب محنت سے پڑھائی کرتے ہیں ۔
اساتذہ ہوں یا صحافی ، مزدور ہوں یا کسی بھی اور پیشے سے وابستہ افراد وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دیتے ہیں اور کبھی کسی کی تنقید کا برا نہیں مانتے ۔ کامیاب افراد اپنی قدر و قیمت سے آگاہ ہوتے ہیں اور راستے میں ہر بھونکنے والے کتے کو پتھر مارنے کے لئے رک نہیں جاتے بلکہ خاموشی سے اپنی جدوجہد کا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ خاموش رہنا اور کامیابی کے لئے بار بار کوشش کرنا کبھی اکارت نہیں جاتا اور یہ اس صورتحال سے بہت بہتر ہوتا ہے کہ آپ شور مچاتے رہیں اور وقت آنے پر آپ کی ناکامی آپ کو ہی ہرا دے ۔
محنتی اور پرامید لوگوں کا کام صرف محنت کرنا ہوتا ہے باقی وہ سب اللہ تعالی کی منشا پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ انھیں کامیابی کی خوشی اور ناکامی کا غم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے بالاتر ہو کر اپنی علمیت میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔کسی بھی شعبے میں ماہر لوگوں کو خود پر اتنا یقین ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی حوصلہ شکنی کی بالکل پروانہیں کرتے اور گر گر کر سنبھلنے کا ہنر جانتے ہیں ۔
کسی شعبے میں مہارت اگر اہمیت رکھتی ہے تو ہمارے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہر پیشہ یا شعبہ ہر شخص کے لئے نہیں ہوتا ۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ کوا چلا ہنس کی چال تو اپنی بھی بھول گیا ۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا یعنی ہم مچھلی سے درخت پر چڑھنے کی توقع نہیں کر سکتے اور شیر کو پانی میں تیرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے۔
یہ دنیا مایوس لوگوں کےلئے نہیں بلکہ جواں مردوں کے لئے ہے جو بار بار ہمیں خود کو سدھارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور پھر درست سمت میں محنت فقیروں کو بھی بادشاہت عطا کر دیتی ہے ۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store