مودی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری، کسانوں کا ایک اور اقدام، جانیے تفصیلات

بانس کے گھر فائل فوٹو بانس کے گھر

نئے زرعی قوانین کیخلاف مظاہرہ کرنے والے ہزاروں کسان گزشتہ سو سے زائد دنوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر مطالبات کے حق میں سڑکوں پر موجود ہیں۔

بھارتی حکومت کیخلاف دھرنے پر بیٹھے کسان یہ بات ذہنی طور پر مان چکے ہیں کہ انہیں اس سال کی گرمیاں بھی دہلی میں ہی گزارنی ہوں گی تاہم انہوں نے اس چلچلاتی دھوپ اور لو کے تھپڑوں سے بچنے کا پورا انتظام کرلیا ہے۔

نئی دہلی کی سرحدوں پر کسانوں نے پکے گھر تو تعمیر کرنا شروع کر ہی دیے ہیں لیکن گرمی کی سختی سے محفوظ رہنے کے لیے اینٹ اور گارے کے گھروں کے علاوہ بانس کے گھر بھی بنائے جا رہے ہیں۔

دیلی کے سنگھو بارڈر پر کسانوں اور کاریگروں نے ایک بانس کا گھر تعمیر کیا ہے، جو 25 فٹ لمبا، 12 فٹ چوڑا اور 15 فٹ اونچا ہے جس میں 15-16 لوگ آرام سے رہ سکتے ہیں۔

اس بانس کے گھر کو کسانوں نے گرمی سے حفاظت کے ارادے سے تیار کیا ہے تاکہ گرم ہوا کے زور کو کم کیا جا سکے گھر کی چھت کو خاص پرالی سے تیار کیا گیا ہے۔

بانس کے اس گھر میں جدت کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے۔ بجلی کنکشن ہے، چھتوں پر پنکھے لگے ہیں اور کولروں کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ گرمی کی وجہ سے تحریک کی شدت کم نہ ہونے پائے، کسانوں نے اس گھر کو صرف پانچ دن میں تیار کیا ہے۔

جیسے جیسے موسم میں تبدیلی آرہی ہے، ویسے ویسے کسان بھی اپنی حکمتی عملی تبدیل کر رہے ہیں، ٹیکری بارڈر پر بلند شہر کے کسان پکے مکان تعمیر کر رہے ہیں جن کی قیمت 20 سے 30 ہزار تک ہے اور اب بانس کے مکان بھی تیار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

install suchtv android app on google app store