امریکا نے ایران پر فوجی تنصیبات اور ریلوے پُل پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ترجمان وزارتِ صحت نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے اور مختلف اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ اب تک ہونے والے امریکی حملوں میں کم از کم 35 افراد شہید اور 300 زخمی ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر جانی نقصان ملک کے جنوبی صوبوں میں ہوا ہے جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی کارروائیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔
ترجمان وزارتِ صحت نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے اور مختلف اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
امریکی حملوں کا زیادہ تر رخ خلیج فارس سے ملحق جنوبی صوبوں کی جانب رہا جہاں فوجی تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے قریبی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور زیادہ تر معصوم شہری نشانہ بنے تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں فوجی اہداف تک محدود تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملوں میں ایران کے ساحلی دفاع، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کیا جاسکے۔
ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔