ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوگئے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کانگریس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران جنگ سے بڑا چیلنج کانگریس ارکان کی مخالفت کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی جنگ شروع ہوئے صرف 2 ماہ ہوئے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ، عراق، افغانستان اور ویتنام کی جنگوں سے بہت چھوٹی ہے۔ لیکن جو سب سے بڑا چیلنج اس وقت درپیش ہے وہ ڈیموکریٹس اور کچھ ری پبلکنز کی جنگ مخالفت اور حوصلہ شکن اور لاپراہی والے بیانات ہیں۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہاکہ صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیارنہیں رکھ سکتا، جنگ کو ابھی 2 ماہ ہوئے، یہ امریکا کی بقا کی جنگ ہے ، ہم امریکاکو محفوظ بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔
امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکیوں کو اپنی افواج پر فخر ہے، ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات کیے۔
اس موقع پر جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ورفوج ہے، ایران جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے، امریکا کو مزید بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہاکہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مستقبل کی سکیورٹی کے لیے تاریخی سرمایہ کاری ہے، جدید جنگوں میں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے باعث زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہو گئی ہے، دنیا بھر کے میدانِ جنگ میں اب ٹیکنالوجی کا کردار بڑھ رہا ہے۔