روس نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دے دیا۔امریکی صدر کا ایران پر حملے کا کوئی جوازمشرق وسطیٰ کی صورتحال خطر ناک رخ اختیار کر رہی ہے
روسی سفیر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطر ناک رخ اختیار کر رہی ہے، سلامتی کونسل کے صدر ہوتے ہوئے برطانیہ نے اجلاس بلانے میں تاخیر کی۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے افسوسناک ہیں ،،انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے مذاکرات پر آمادگی کے باوجود حملے کیے گئے، امریکی صدر کا ایران پر حملے کا کوئی جواز نہیں تھا ، ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔
سلا متی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روسی مندوب نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئےکہاکہ جارحیت کر کے ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا، ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، عراق جنگ کے لیے بھی بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا، مذاکرات کرنے والے ایران کے شہریوں پر حملوں کی یورپی ممالک مذمت نہیں کر رہے۔
ایران کے معاملے پر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب سلا متی کونسل میں فرانس نے کہاکہ ایران اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے، خطے کے ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، ایران بیلسٹک مزائل پروگرام پر مذاکرات کرے۔
اس کے علاوہ چینی مندوب نے بھی شہریوں پر حملوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کشیدگی فوری ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں۔
امریکی صدر کا ایران پر حملے کا کوئی جوازمشرق وسطیٰ کی صورتحال خطر ناک رخ اختیار کر رہی ہے، روسی سفیر