امریکا کی اعلیٰ عدالت امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جسے ان کی معاشی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے جمعہ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صدر نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) صدر کو یکطرفہ طور پر ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔
عدالت کا مؤقف کیا ہے؟
عدالت کے مطابق:
-
کانگریس کی منظوری کے بغیر وسیع پیمانے پر تجارتی ٹیرف عائد نہیں کیے جا سکتے
-
صدر کے اختیارات کی آئینی حدود متعین ہیں
-
عالمی تجارت پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کے لیے پارلیمانی عمل ضروری ہے
ٹرمپ کی معاشی پالیسی پر اثر
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹیرف صدر ٹرمپ کے اقتصادی ایجنڈے کا اہم جزو سمجھے جاتے تھے۔ ماہرین کے مطابق:
-
رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر اثر پڑ سکتا ہے
-
بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے
-
صدر کے اختیارات کی نئی حد مقرر ہو گئی ہے
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے، جنہیں تجارتی دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
سیاسی ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئندہ صدارتی پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کس حد تک معاشی اقدامات کر سکتے ہیں۔