بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کو بند کر دیے جانے کے واقعے نے ملک میں تعلیم کے شعبے میں مذہب اور سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق میڈیکل کالج کی بندش کی بنیادی وجہ دائیں بازو کے ہندو انتہا پسند گروپس کی جانب سے مسلمان طلبہ کے داخلے کے خلاف احتجاج بنی۔
ان گروپس اور بعض بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے مسلمان طلبہ کے داخلے کو “نامناسب” قرار دیا۔
احتجاج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ چونکہ یہ ادارہ ہندو عطیات سے چلایا جاتا ہے، اس لیے یہاں مسلمانوں کو داخلہ نہیں دیا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق کالج کے پہلے بیچ میں شامل 50 طلبہ میں سے اکثریت کشمیری مسلمان تھی، جنہیں میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔
بعد ازاں نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کی منظوری واپس لیتے ہوئے انفراسٹرکچر کی کمی کو وجہ قرار دیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی دباؤ کے نتیجے میں اٹھایا گیا، جبکہ اصل مسئلہ طلبہ کا مذہبی پس منظر تھا۔
کالج کی بندش کے باعث درجنوں طلبہ کسی متبادل میڈیکل کالج کے بغیر رہ گئے ہیں، جس سے ان کے تعلیمی مستقبل پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کو امتیازی اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔
واقعے نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، تعلیمی اداروں میں مساوی مواقع اور ریاستی پالیسیوں میں مذہبی و سیاسی اثرات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔