چینی کمپنیاں نے انسان نما روبوٹ مختلف فیچرز کے ساتھ تیار کر لیا

روبوٹ فائل فوٹو روبوٹ

چینی کمپنیوں نے سال 2025 کے دوران انسان نما روبوٹ کی عالمی پیداوار میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

چین کی ایک صنعتی رپورٹ کے مطابق چینی روبوٹکس کمپنیاں 2025 میں دنیا بھر میں انسان نما روبوٹس کی سب سے بڑی پیداواری کمپنیاں بن گئی ہیں، جو اس ابھرتی ہوئی پیدواواری شعبے میں چین کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی ہے۔

لندن کی ایک ٹیکنالوجی مشاورتی کمپنی اومڈیا کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق شنگھائی میں قائم ایجی بوٹ نے گزشتہ برس سال بھر میں 5 ہزار100 سے زائد روبوٹ کی ترسیل کا ہدف حاصل کیا جوعالمی انسان نما روبوٹ مارکیٹ میں 39 فیصد حصہ بنتا ہے اس طرح یہ چینی کمپنی ترسیل اور مارکیٹ شیئرز دونوں سے دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

صرف یہی نہیں دوسرے نمبر پر بھی چینی کمپنی ہانگژو یونی ٹری اور شین زین کی یوبی ٹیک رہی، جس نے بلترتیب 4 ہزار200 اور ایک ہزار یونٹس کی ترسیل کی۔

واضح رہے کہ ایجی بوٹ اور یوبی ٹیک ایسے ربوٹ تیار کرتی ہیں جو تجارتی اور صنعتی جبکہ یونی ٹری کے روبوٹ تحقیق، تعلیم اور صارفین کی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہورہے ہیں۔

گزشتہ برس انسان نما ربوٹ بنانے والی چین کی دیگر کمپنیاں لی جو روبوٹ، انجن اے آئی اور فوریئرکے ساتھ ساتھ فگر اے آئی، ایجیلیٹی روبوٹکس اور ٹیسلا سمیت امریکی کمپنیاں محض 150 سے 200 کے درمیان روبوٹس کی ترسیل کر پائیں۔

وقت گرزنے کے ساتھ گھر ہو یا صنعت دونوں انسان سے ملتے جلتے روبوٹس کا استعمال بڑھتا ہے جارہا اور ایک انداے کے مطابق عالمی سطح پر سالانہ ترسیل تقریباً 13 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی ہے۔

install suchtv android app on google app store