پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ کپتان کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، شان مسعود کی قیادت میں اس طرح نتائج نہیں آرہے تھے جس طرح کی توقع تھی۔
مصباح الحق اور اسد شفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ شان مسعود کی اپنی کارکردگی اچھی رہی ہے لیکن ان کی قیادت میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں تھی، اب کوشش کی ہے کہ تبدیلی لائے جائے تاکہ ٹیم کے نتائج اچھے ہوں، فاسٹ بولرز کی اسپیڈ ہمارے لیے فکر مندی کی بات ہے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ کوئی بھی کرکٹ بورڈ یا سلیکشن کمیٹی یہ نہیں چاہے گی کہ کپتان ایک سیریزکے لیے ہو، تسلسل کے ساتھ موقع ملنا چاہیےاور یہ موقع پرفارمنس کے ساتھ ملتا ہے، اگر سب اچھا جا رہا ہو تو پھر تبدیل کرنے کی ضرورت تو نہیں، ہم تو یہی چاہیں گے کہ جس کو بھی موقع ملے دو تین سال کے لیے موقع ملے۔
دوسری جانب مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں تسلسل بہت اہم ہوتا ہے، تسلسل سے ہی کامیابی ملتی ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ بحیثیت پلیئر اور کپتان کارکردگی میں تسلسل ہے یا نہیں۔
مصباح الحق کا کہنا تھا بابراعظم پر ٹی ٹوئنٹی میں اسٹرائیک ریٹ پر سوال اٹھایا جاتا تھا، لیکن پی ایس ایل میں بابر اعظم نے ثابت کیا کہ اس کی اہمیت تینوں فارمیٹ میں ہے، بابر اعظم کو تمام فارمیٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ہمیں بابر اعظم کو اعتماد دینا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم نے انہیں کہاں استعمال کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا اس ٹیم کے اعلان سے یہ کہنا درست نہیں کہ فلاں کا کیرئیر ختم ہو گیا، نسیم شاہ اورشاہین آفریدی کو فرسٹ کلاس کھیلنے کی ضرورت ہےتاکہ وہ بہتر نظر آئیں، دونوں کھلاڑی ریڈ بال سے آؤٹ نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے سلیکشن کمیٹی نے بابر اعظم کو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا ہے۔