بدھ سے جاری بارش نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دیں، کہیں پانی کھڑا ہے تو کہیں گٹر ابل رہے ہیں اور کہیں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے، چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ایک طرف جہاں پانچ روز سے جاری بارش نے جاتی سردی کو بریک لگا دی ہے وہیں بارش سے پرانے مسائل بھی واپس لوٹ آئے ہیں، کہیں سڑکوں پر پانی جمع ہے تو کہیں ناکارہ اور خراب سویریج سسٹم نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
کچی گلیوں میں کیچڑ اور مٹی نے چلنا پھرنا دشوار بنا دیا ہے تو کہیں نکاسی آب کا نظام نہ ہونے سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں متعدد قصبے اور دیہاتوں کے قریب بند ٹوٹنے سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی گندم اور چنے کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، منہ زور پانی کھیت کھلیانوں اور آبادیوں میں جا پہنچا ہے۔
بالائی علاقوں کے مکینوں کو بھی کئی روز کی مسلسل بارش سے مختلف دشواریوں کا سامنا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے سبب رابطہ سڑکیں بند ہوجانے سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور برف باری سے پھسلن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے سے دیگر حادثات میں پچیس سے زائد افراد موت کی آغوش میں چلے گئے، درجنوں گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔