پی ٹی آئی تقسیم ہو چکی ہے اور سیاسی طور پر اس کی حیثیت بالکل ختم ہو چکی، فیصل واوڈا

سینیٹر فیصل واوڈا فائل فوٹو سینیٹر فیصل واوڈا

سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی قوت کے طور پر ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “اب تماشا ختم ہو چکا ہے۔” انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نئے انتظامی بندوبست کے تحت ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی تقسیم ہو چکی ہے اور سیاسی طور پر اس کی حیثیت بالکل ختم ہو چکی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جو ہوا وہ پارٹ ون ہے، پارٹ ٹو اور تھری ابھی آنا باقی ہیں۔

وہ خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے حوالے سے پی ٹی آئی کے مستقبل پر اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی والے دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ کسی پارٹی میں جائیں، نئی پارٹی بنائیں اب پی ٹی آئی ختم ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا عوام کا صوبہ ہے ، کسی کی جاگیر نہیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔ قومی ترانے اور پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام عبرت کا نشان بنائیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد قائم ہونے والے نئے انتظامی نظام کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو خبردار کیا کہ اب ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کے تقریباً 13 سالہ دورِ حکومت کے باوجود عوام کو درپیش مسائل حل نہیں ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ سیاسی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو سیاسی بیانات اور نعروں سے زیادہ ریلیف، تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی حالات میں بہتری کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کو اپنی کارکردگی کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد قائم ہونے والے نئے انتظامی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ان سے توقع کی جائے گی کہ وہ مقررہ مدت کے دوران واضح نتائج دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 180 دن کی مدت کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ انتظامیہ آخری دن تک بہتری کے لیے انتظار کرتی رہے، ان کے مطابق پہلے 30 اور 60 دن میں بھی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ نظام درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر پر بھاری ذمہ داری ہے اور ایک فیصد ناکامی بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے نئے انتظامی نظام کی کامیابی کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے عوامی مسائل کے حل، بہتر حکمرانی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افسران یا متعلقہ حکام کارکردگی دکھانے میں ناکام رہیں، انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ نئے نظام کو ایک امتحان سمجھ کر کام کرنا ہوگا اور خراب کارکردگی کے لیے کسی قسم کا جواز قابل قبول نہیں ہوگا۔

فیصل واوڈا نے نئے انتظامی نظام کی مدت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس کے لیے کوئی حتمی اور مقررہ مدت طے نہیں کی گئی ۔

ان کے مطابق حالات اور انتظامیہ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 60، 90، 180 حتیٰ کہ 281 دن کے بعد بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی اور جو لوگ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہوں گے، انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نتائج کی ضمانت کسی مخصوص گھنٹے، دن یا ہفتے کے اندر نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس کا انحصار زمینی صورتحال اور پیش رفت پر ہوگا۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اہلکاروں، پولیس افسران اور عام شہریوں نے قربانیاں دی ہیں، اس لیے سیاسی قیادت اور صوبائی انتظامیہ کو بھی ان قربانیوں کے مطابق عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر ترجیح دینی چاہیے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کے نتائج زمینی سطح پر نظر آئیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کا احتساب آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے نمائندوں نے عملی طور پر کیا کام کیا، نہ کہ وہ کتنے بڑے دعوے یا نعرے لگاتے ہیں۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی نظام کو 180 دن کے دوران سکیورٹی، تعلیم، صحت اور عوامی خدمات کے شعبوں میں قابل پیمائش بہتری دکھانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب حکومت یا انتظامیہ کی کارکردگی لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق ان کے بیان یا سلسلے کا پہلا حصہ جاری ہو چکا ہے اور مزید حصے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے حوالے سے سیاسی مذاکرات اور گرفتاریوں سمیت مختلف معاملات پس پردہ رابطوں اور معاملات کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض سیاسی پیش رفت کے پیچھے باہمی رابطہ کاری بھی ہوئی۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو آئین اور قانون کے تحت جواب دہ ہونا چاہیے اور سیاسی وابستگی کسی کو احتساب سے بالاتر نہیں بناتی۔

پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کے مستقبل سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں پارٹی کا کوئی واضح اور امید افزا سیاسی یا آئینی مستقبل نظر نہیں آتا۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں، چاہے اس کے لیے نئی سیاسی جماعتیں بنانا پڑیں، کسی دوسری جماعت میں شامل ہونا پڑے یا کوئی متبادل سیاسی پلیٹ فارم قائم کرنا پڑے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی اپنی سابقہ سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

انہوں نے صوبائی کابینہ کے بعض ارکان کی کارکردگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اچھا کام کرنے والوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر جانچنا چاہیے نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ کس سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی نظام کو ری بوٹ کرنے سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر یہ اصطلاح استعمال کی۔

انہوں نے اس عمل کا موازنہ ایک ایسے موبائل فون کو دوبارہ شروع کرنے سے کیا جو درست طریقے سے کام نہیں کر رہا ہو۔

ان کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی، معاشی مشکلات، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف تک رسائی سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے نظام کی اصلاح ضروری ہے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ ری بوٹ کے عمل میں بعض عناصر کو ہٹانا، نئی تبدیلیاں لانا اور بتدریج نظام کو دوبارہ درست انداز میں فعال کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے گورنر راج اور ہنگامی اقدامات سے متعلق آئینی شقوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے اختیارات آئین میں موجود ہیں تو محض ان کے استعمال کی بنیاد پر انہیں غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم کسی بھی اقدام کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی دفعات اور ان کے درست اطلاق کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے فیصل واوڈا سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کے بارے میں سوال کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کسی سیاسی رہنما کو ملاقات کے لیے بلا کر دھوکا دیا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ فیصل واوڈا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات موجود ہیں اور وہ ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مجوزہ حکمت عملی کے نتیجے میں عام لوگوں کو تعلیم، فلاح و بہبود اور دیگر بنیادی سہولتوں میں بہتری ملتی ہے تو مولانا فضل الرحمان بھی ایسے اقدامات کی حمایت کریں گے۔

فیصل واوڈا نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مجوزہ انتظامی اور سیاسی تبدیلیوں کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، فیصل واوڈا نے کہا کہ جہاں بھی دہشت گردی پاکستان کے لیے خطرہ بنے، وہاں حالات کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عہدوں پر موجود شخصیات کو بھی احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے، خصوصاً اگر ان پر عسکریت پسند سرگرمیوں کی حمایت کے الزامات ہوں، ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

تاہم انہوں نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے آمادگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔

ان کے مطابق امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافہ اور معاشی مشکلات میں کمی وہ بنیادی شعبے ہیں جن میں نتائج سامنے آنا ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی نظام کو اپنی سیاسی شناخت کے بجائے عملی کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔

فیصل واوڈا کے مطابق عوام بالآخر اسی انتظامیہ کو قبول کریں گے جو ان کے مسائل حل کرے، سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنائے اور روزمرہ زندگی میں واضح بہتری لائے۔

 

install suchtv android app on google app store