چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بزدل تھے، سہیل آفریدی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے سے انکارکیا، اگر تحریک انصاف دہشت گردوں کا مقابلہ کرنےکے لیے تیار نہیں تو پیپلزپارٹی تیار ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہماری ترجیح ہے، اس کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، اپوزیشن واقعی دہشت گردوں اور ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو آئے اور بات کرے۔
کراچی میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں تقریب کے موقع پر میڈیا سےگفتگو میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے افغانستان سے دہشت گردوں کو پاکستان بلایا، جیلوں سے دہشت گردوں کو آزادکیا، آج ملک انہی غلط فیصلوں کا نقصان اٹھا رہا ہے۔
بلاول نےکہا کہ ہماری مجبوری تھی دہشت گردی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانا پڑی، مولانا فضل الرحمان اس بات سے انکار نہیں کرسکتےکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن ایک صوبےکا وزیر اعلیٰ وفاق کے ساتھ تعاون کے لیے تیار نہیں تھا، مولانا کو چاہیےکہ وہ دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کریں، پاکستان کے کسی حصے سےکسی کو پاکستانی پرچم اتارنےکی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم سب مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے، ملک کی سلامتی کے لیے ہماری بہادر افواج قربانیاں دے رہی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، دہشت گردوں کا خاتمہ کیاجائےگا۔
بلاول کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ ہماری ترجیح ہے، اس کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، اپوزیشن واقعی دہشت گردوں اور ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو آئے اور بات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی جانتے ہیں کہ صوبوں کے متعلق صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کا کیا مؤقف ہے، صدر مملکت کے دستخط کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا، پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہےکہ آئینی اور قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں، اگر صوبائی اسمبلی چاہےکہ وہاں صوبے بنیں تو صوبے بن سکتے ہیں، جہاں اتفاق رائے موجود ہے وہاں صوبے کیوں نہیں بنائے جارہے،گلگت بلتستان میں گھر گھر یہ مطالبہ موجود ہےکہ اسے صوبےکا درجہ دیا جائے۔
انہوں نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان کا حق ہےکہ وہ حکومت کی پالیسی پر تنقیدکریں، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آئینی و قانونی طریقے سے ایمرجنسی لگائی ہے، ہم حکومت میں نہیں لیکن اپنے منشور کے مطابق ڈلیور کرنےکی کوشش کر رہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن سب مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کےخاتمے اور گورنر راج کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔