خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں چاہتے، یہ آخری آپشن ہونا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری فائل فوٹو چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکیورٹی و کشیدہ سیاسی صورت حال کے تناظر میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں کے پیش نظر دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے صوبے میں گورنر راج لگنے سے روکا۔ بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ کر جمہوری طرز عمل اختیار کرے، خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ نہیں چاہتے، یہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔

کراچی میں اسپورٹس کمپلیکس کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کراچی میں ایک اور منصوبے کا افتتاح کرنے کے لیے موجود ہیں، جبکہ اس سے قبل تھرپارکر میں تھرکول بلاک ٹو کے تیسرے حصے کا افتتاح کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی قوتیں کراچی کے نوجوانوں کو کریمنل بنانا چاہتی ہیں، لیکن پیپلزپارٹی نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم دیکھنا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی منفی سیاست کے بجائے مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے جبکہ بعض دوسری جماعتیں انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں اور وہاں کی حکومت عوام کی بہتری کے بجائے منفی سیاست کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلزپارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج آخری آپشن ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کا خاتمہ کیوں چاہتے ہیں اور مذاکرات کو سبوتاژ کیوں کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کے مطابق اگر گورنر خیبرپختونخوا صدر کو خط لکھ دیتے تو آج صوبے میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہوتا، لیکن پیپلزپارٹی نے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی بھی تحریک انصاف کی طرح سیاست کرتی تو جلد بازی میں فیصلے کیے جا سکتے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی پیپلزپارٹی کی وجہ سے نافذ نہیں ہوئی اور اگر آئندہ ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر عائد ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس سیاسی حمایت موجود ہے، لیکن انتہا پسندی کی سیاست کی وجہ سے وہ عوام کو مایوس کرتی رہتی ہے۔ اس طرز سیاست سے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ پورے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے دوستوں کو مشورہ ہے کہ جمہوری بنیں اور انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دیں تاکہ اپنی حکومت بچا سکیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کے خواہاں ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی کوششیں کامیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے 14 سال جیل میں گزارے، اگر تحریک انصاف نے انتہا پسندی کی سیاست نہ چھوڑی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں وقت گزارنے کے معاملے میں صدر زرداری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تحریک انصاف کے دوست کوشش کریں گورنرراج سے پہلے کامیاب مذاکرات ہوں ،اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا واقعی سچے ہیں تو پھر انتہاپسندی کی سیاست چھوڑ دیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہو چکا تھا اور پارلیمان میں انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں نہیں بیٹھے گی تو آنے والے انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے اپنا کردار کیسے ادا کرے گی؟ انہوں نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندی چھوڑ کر سیاسی اور جمہوری عمل میں حصہ لے۔

کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہر نے بہت لاشیں اٹھائی ہیں اور بڑی قربانیوں کے بعد یہاں امن بحال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو آج بوری بند لاشوں کا شہر نہیں کہا جاتا۔ ماضی میں شہر میں دودھ کی نہریں بہانے کے دعوے کرنے والوں کی سیاست سب کے سامنے ہے جبکہ کراچی کے دعویداروں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی میں رہنے والے خود فیصلہ کریں گے کہ شہر میں کس کو رہنا چاہیے اور کس کو نہیں۔ انہوں نے بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے لاڑکانہ سے کراچی تک بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام آئینی حقوق چاہتے ہیں اور پیپلزپارٹی انہیں حقوق دینے کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے موجود ہے، وہاں صوبے بننے چاہئیں۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ بھی موجود ہے اور پیپلزپارٹی اس معاملے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جہاں عوام صوبہ چاہتے ہیں وہاں تاخیر کے بجائے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال اور محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ عوام کے پاس جائیں اور ان کی رائے معلوم کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے تاہم اگر حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر رہی تو موجودہ حالات میں صورتحال مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے کافی بحران پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کو مہنگائی پر توجہ دینی چاہیے، لیکن وہ اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کہاں تک پہنچے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ عوام کو ریلیف ملے اور حکومت مہنگائی سمیت عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے۔

install suchtv android app on google app store