ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر پاکستان آصف علی زردای، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے نور خان ایئربیس پر ایرانی صدر کا استقبال کیا۔ ایرانی صدر خصوصی طیارے میناب 168 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے ہیں۔
ایرانی صدر کو پاکستان آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے بھی سلامی دی۔
روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے ایرانی صدر کو پھول پیش کیے، پاکستان اور ایران کے جھنڈے تھامے بچے ایرانی صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ایرانی صدر نے ہاتھ ہلا کر بچوں کے خیر مقدمی نعروں کا جواب دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی قیادت کے ساتھ والہانہ انداز میں مصافحہ کیا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی دعوت پر ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایرانی صدر کا یہ سب سے پہلا دورہ ہے۔
ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے پیش نظر راولپنڈی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ نور خان ایئربیس اور اس کے گرد و نواح میں سخت سیکیورٹی نافذ کی گئی ہے۔
ایرانی صدر کی آمد اور واپسی تک سیکیورٹی ڈیوٹی پر راولپنڈی پولیس کے 600 سے زائد افسران اور اہلکار تعینات رہیں گے۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے تمام اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران کسی قسم کی کراسنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔
قبل ازیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اسلام آباد دورے کے موقع پر وزارتوں میں کام کرنے والے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری ہدایت کی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کابینہ ڈویژن نے آج صبح ایران کے صدر کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ریڈ زون میں قائم منسٹریز اور ڈویثزن دفاتر کے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق کابینہ ڈویژن، ایف بی آر، فنانس ڈویژن، وزارت خزانہ، وزارت خارجہ، انڈسٹریز، وزارت داخلہ اینڈ جسٹس، پارلیمانی افیئر، منصوبہ بندی اور وزیراعظم آفس کے ملازمین دفاتر آئیں گے۔
اس کے علاوہ ریڈ زون میں آنے والے خودمختار ادارے آج بند ہوں گے۔ اس ضمن میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔