وزیراعظم کا نیپرا کے سولر ریگولیشنز پر فوری نوٹس، موجودہ صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کی ہدایت

وزیراعظم فائل فوٹو وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کے سولر ریگولیشنز پر فوری نوٹس لیتے ہوئے موجودہ صارفین کے معاہدوں کے تحفظ اور نئے نرخوں پر نظرثانی کی ہدایت جاری کر دی۔وزیراعظم Shehbaz Sharif نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سولر صارفین سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم Ishaq Dar سمیت متعلقہ وفاقی وزرا اور حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پاور ڈویژن اور National Electric Power Regulatory Authority (نیپرا) کو ہدایت کی کہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ سے متعلق نظرثانی اپیل دائر کی جائے اور موجودہ کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں موجود تقریباً 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا مالی بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاور ڈویژن کو اس معاملے پر جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔

نئے سولر ریگولیشنز کیا ہیں؟

نیپرا کے نئے قواعد کے تحت نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے نرخوں میں کمی کر دی گئی ہے۔

پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے نرخ پر ہی فروخت کریں گے۔

نئے صارفین کے لیے فی یونٹ نرخ میں 17 روپے 19 پیسے کی کمی کر دی گئی ہے۔

اب نئے سولر صارف کو نیشنل گرڈ کو فروخت کی گئی بجلی کے عوض 8 روپے 13 پیسے فی یونٹ ملیں گے، جو سابقہ نرخ سے تقریباً تین گنا کم ہے۔

اس کے علاوہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت صارف کے پیدا کردہ یونٹس اب سرکاری یونٹس کے برابر شمار نہیں ہوں گے۔ نیشنل گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی کی قیمت حکومتی ٹیرف اور سلیب کے مطابق وصول کی جائے گی۔

نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت بھی 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔

 

install suchtv android app on google app store