دنیا اس وقت شدید تنازعات، جغرافیائی تقسیم اور کثیرالطرفہ نظام پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ اگرچہ یہ عہدہ علامتی نوعیت کا حامل ہے، تاہم موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس کی اسٹریٹیجک اہمیت نمایاں ہے۔
یہ پاکستان کا سلامتی کونسل میں آٹھواں دور ہے، جبکہ 2013 کے بعد پہلی مرتبہ اسے کونسل کی صدارت کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
پاکستان نے بطور غیر مستقل رکن جنوری 2025 میں اپنا دو سالہ دورانیہ شروع کیا تھا، جو دسمبر 2026 تک جاری رہے گا۔
سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر گردش کرتی ہے، اور اگرچہ اس کے پاس براہ راست انتظامی اختیارات نہیں ہوتے، تاہم یہ عہدہ رکھنے والا ملک کونسل کے ایجنڈے، بحث کے انداز اور ترجیحات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غزہ اور یوکرین جیسے معاملات پر مفلوج دکھائی دیتی ہے، پاکستان کی سفارتی قیادت عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی تناظر میں کثیرالطرفہ سفارتی نظام پر عوامی اعتماد کمزور ہو رہا ہے.
ایسے میں پاکستان کی قیادت، خواہ محدود مدت کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اقوامِ عالم کی نظریں اپنی جانب مرکوز کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد اس موقع کو عالمی امن و سلامتی کے فروغ، فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات پر آواز بلند کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔