نوجوان رہنما شہیر حیدرسیالوی نے سوموار کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان نظریاتی پارٹی کے نام سے نواجوانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کا اعلان کردیا۔
شہیر حیدرسیالوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سال طلباء سیاست میں نوجوانوں اور ملکی مسائل کیلئے محنت اور لگن سے کام کیا اور اس عرصہ میں انہیں مختلف کھٹن مراحل سے گزرنا پڑا جس میں دو دفعہ انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور سلاخوں کے پیچھے بند کیا گیا مگر وہ اپنے مشن سے نہ پیچھے ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نظریاتی پارٹی بانیان پاکستان کے نظریے کے مطابق پاکستان کو حقیقی اور فلاحی ریاست بنائے گی،امیر غریب کی تفریق کو ختم کرنا ہمارا ایک نقطہ ایجنڈا ہے۔
شہیر حیدرسیالوی کا کہنا تھا یکساں نصاب تعلیم کے ساتھ سرکاری افسران کے بچے سرکاری اسکوں میں پڑھیں گے تو طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوگا، میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی قرار دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ایس ایس سمیت تمام امتحان اور تعلیم قومی زبان اردو میں ہوگی البتہ پانچ بڑی زبانوں انگریزی، چائنیز،عربی،جرمن اور فرانسیسی میں سے کوئی ایک زبان سیکھنا لازمی ہوگا۔
شہیر سیالوی نے کہا کہ وہ معاشی اصطلاحات کا جامع پلان رکھتے ہیں،برآمدات کو کم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کریں گے،زرعی اصلاحات،جاگیردانہ،بدعنونی،موروثی سیاست کا خاتمہ پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔
نواجون رہنما شہیرسیالوی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کارکردگی اور تعلیم کی بنیاد پر نوجوانوں کو ترجیح بنیادوں پر ٹکٹ جاری کئے جائیں گے۔
ملکی خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نظریاتی پارٹی برابری کی بنیاد پر تمام ہمسایہ ممالک سے تعلقات استوار کرنے کی حامی ہے۔
ملکی دفاع پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو بقا کیلئے جہاں اچھی معیشت کا ہونا ضروری ہے، و ہیں ناقابل تسخیر دفاع کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے
شہہیر احمد سیالوی نے کہا کہ اس سلسلے میں موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائےگی۔ اقلیتوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق پاکستان میں تمام اقلیتوں کو ان کے مذہب کے مطابق جینے کا حق دیا جائےگا۔
شہیر احمد سیالوی کا کہنا تھا کہ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا کہ کوئی کسی دوسرے کے مذہب کی توہین بھی نہ کرے۔
شہیر سیالوی کا کہنا تھا کہ وہ بلدیاتی وعام انتخابات میں بھر پور طریقے سے حصہ لیں گے اور ہم خیال جماعتوں سے اتحاد بھی کریں گے۔