وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل, وفاقی حکومت نے عدالت سے مہلت مانگ لی

وزیر اعظم عمران خان فائل فوٹو وزیر اعظم عمران خان

وفاقی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل دینے کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی، عدالت کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو ملے تحائف ان کے نہیں عوام کے ہیں، حکومت کو چاہیئے 10 سالوں کے تحائف پبلک کر دے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل دینے کے لیے حکومت نے مہلت مانگ لی، ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی۔

دوران سماعت جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کوئی دفاعی تحفہ ہو وہ بے شک نہ بتائیں لیکن ہر تحفے پبلک کرنے پر پابندی کیوں ہے؟ کسی ملک نے کوئی ہار تحفے میں دیا تو اسے پبلک کرنے میں کیا ہرج ہے؟

جج کا کہنا تھا کہ حکومت تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہو رہی ہے؟ حکمرانوں کو ملے تحائف ان کے نہیں عوام کے ہیں۔ کوئی عوامی عہدے پر نہ ہو تو کیا عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو تحائف ملیں گے؟

عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ حکومت کیوں تمام تحائف کو میوزیم میں نہیں رکھتی؟ حکومت کو چاہیئے 10 سالوں کے تحائف پبلک کر دے۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت بتائے کتنے تحائف کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے تخمینہ لگوایا؟ کس نے کیا تحفہ دیا یہ بات عوام کو بتانے سے تعلقات کیسے خراب ہوں گے۔

ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ ایک شہری کو وزیر اعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا انفارمیشن کمیشن کا حکم کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

کابینہ ڈویژن نے عمران خان کو بطور وزیر اعظم ملنے والے تحائف کو کلاسیفائیڈ قرار دیا اور کہا تھا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے، ایسے تحائف کی تفصیل کے اجرا سے میڈیا ہائپ اور غیر ضروری خبریں پھیلیں گی۔

کابینہ ڈویژن نے مزید کہا تھا کہ بے بنیاد خبریں پھیلنے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے اور ملکی وقار مجروح ہوگا۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store