صحت مند معدہ ہر چیز کو جزوِ بدن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے مگر افسوس کہ مسلسل روغنی اشیاء، چٹ پٹی مرچ مسالے والی غذائیں اور بازاری کھانوں نے معدے کا بیڑہ غرق کردیا ہے جس کی وجہ سے معدہ کئی بیماریوں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔
مثلاً تیزابیت، معدے کے زخم اور معدے کے السر وغیرہ۔معدہ ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جس کی خرابی سے پورے جسم کے اعضاء متاثر ہوتے ہیں۔
معدہ ہی ہضم شدہ خوراک کے ذریعے ہمارے جسم کو قوت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اگر معدہ ہی خراب ہو جائے تو پھر جسم کو قوت اور توانائی کس طرح ملے گی؟ معدے کی خرابی میں سب سے اہم کردارغذائی بے اعتدالی کا ہے یعنی متوازن خوراک کا نہ ہونا۔
اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ کھائے چلے جاتے ہیں اور اس کے مطابق جسمانی کام کاج نہیں کرتے ان کا معدہ خراب ہو جاتا ہے۔اس مرض کی مندرجہ ذیل علامتیں ہیں ۔
*درد
زخمِ معدہ کا درد غذا کھانے کے فوری بعد یا بعض مریضوں میں زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے کے بعد شروع ہوتا ہے، رات کے وقت کبھی درد نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زخمِ اثنیٰ عشر مریضوں کو رات (دو بجے) کو درد ہوتا ہے اور غذا کھانے کے بعد درد میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔
*جسمانی اور ذہنی دباؤ
زخمِ اثنیٰ عشر کی شرح دماغی کام کرنے والے افراد (جیسے کہ ڈاکٹروں ، لیڈروں ، بنک ملازموں ، ادیبوں ، فن کاروں ، صحافیوں ، قلمکاروں ) میں بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ زخمِ معدہ کی شرح جسمانی کام کرنے والے افراد میں زیادہ ہوتی ہے۔
*اُلٹی
اگر مریض کو اُلٹی کے بعد درد میں نمایا ں کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ زخمِ معدہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔ زخمِ اثنیٰ عشر کے مریض کو اُلٹی کی شکایت نہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے وہ ’’دل جلنے‘‘ کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ اکثر چھاتی کے بائیں جانب پستان کے نیچے درد محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قدرے بے چینی محسوس کرتے ہیں۔
پرہیز
السر کے مرض میں علاج اور پرہیز دونوں ضروری ہے اس لیے مریض ایسی غذائیں استعمال کریں جو معدے کو مزید تکلیف سے محفوظ رکھ سکیں۔
* جو چیز بھی کھانے سے معدہ مزاحمت کرے ہاضمے میں مشکل ہو یا تکلیف بڑھ جائے اسے کھانے سے گریز کریں۔
*ا گر السر دواؤں کی وجہ سے ہوا تو اس صورت میں ان ادویات سے گریز کریں۔
* جلدی جلدی کھانے اور مرغن مسالے دار کھانے، اچار، بہت زیادہ نمکین یاسرخ مرچ کی چٹ پٹی چیزوں کواستعمال نہ کریں بلکہ غذائیں ہلکی پھیکی استعمال کریں۔
*السر کے مریضوں کو لیموں یا مالٹے اور سوڈا وغیرہ استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس میں قدرتی تیزابیت موجود ہوتی ہے جس سے السر کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔
*دودھ کے استعمال سے السر کے مریضوں کو عارضی راحت پہنچتی ہے۔ دودھ معدے کے تیزابیت کوعارضی طور پر غیر موثر کر دیتاہے، اس لیے دودھ سے السر کے مریضوں کو آرام محسوس ہوتاہے، لیکن بعد میں دودھ میں موجود کیلشیم کے باعث تیزابیت بڑھ جاتی ہے تیزابیت کی پیداوار بڑھ جانے سے تکلیف میں اضافہ ہو سکتاہے۔
* ذہنی دباؤاور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں کریں۔
*ماحول کو پُرسکون اور صاف ستھرا بنائیں۔ غذا اور پانی کی صفائی کاخصوصی خیال رکھیں۔
*کھانا کھانے کا ٹائم بنا لیں اور اپنی غذا میں سبز پتوں والی سبزیوں کا عام استعمال کریں۔
*سونے اور جاگنے کا وقت متعین کر لیں۔ پیدل چہل قدمی کا وقت نکالیں، ہلکی ورزش کریں۔
*مناسب مقدار میں بند گوبھی کھائیں۔ اس کی وجہ سے گیس اور السر دونوں کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ہومیو پیتھی علاج
اکونائٹ Aconite: خوف و پریشانی کی حالت میں ذکی الحس معدہ، درد، تناؤ، چھوٹا، برداشت نہ ہو۔ پانی کے سوا ہر چیز کڑوی لگے۔ قے کردے بلغم یا خون ملے مواد کی قے، معدے میں دباو معدے سے خوراک کی نالی کے منہ تک جلن ہو۔
* ایتھوزا Aethusa: معدہ میں تکلیف اور کھنچاوٹ کے ساتھ درد، قے اور زبردست کمزوری کا احساس، جلن، اور معدے میں چیرنے پھاڑنے جیسا درد ، معدہ ذکی الحس۔
*آرنیکا Arnica: معدہ بھاری جیسے پتھر رکھا ہوا ہو، سڑی ہوئی قے ،کھانا کھاتے وقت درد ہو، کھانے سے نفرت، ایسی علامات میں صرف یک ڈوز دیکر انتظار کریں۔
*برائی اونیاBryonia: پیٹ ذکی الحس ، پیٹ کے بالائی حصہ ذکی الحس ، معدہ کا درد کھانے پینے کے بعد قے کردے، ذائقہ کی حس ختم ہوجاتی ہے جلن کے ساتھ درد، سوئی گڑنے جیسا درد ہو، قبض اور معدہ کی خرابیوں میں دیں۔
دیگر تمام ادویات میں کیلنڈولا، کلکیریا کارب، کاربوویج، کالوسنتھ، گریفائٹس، ہپریکم، کالی بائی کروم، لائیکو پوڈیم، نکس وامیکا، پلساٹیلا، رسٹاکس، تھوج وغیرہ ہومیوپیتھی کی قابل ذکر ادویات ہیں۔
جنھیں السر Ulcerکے مریضوں کو فوری طبی امدا کے طور پر بھی دی جا سکتی ہے تاکہ مریض مزید تکلیف سے راحت پا سکے اور علاقائی طور پر لگنے والی ادویات مستقل استعمال کر کے مریض کو السر سے مستقل طور پر آسانی فراہم کی جا سکتی ہے۔