امریکی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گردے کی پتھری بننے میں بیکٹیریا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے اس بیماری کے بارے میں روایتی سائنسی نظریات تبدیل ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ گردے کی پتھری صرف پیشاب میں موجود نمکیات کے کرسٹل بننے کی وجہ سے بنتی ہے، لیکن نئی تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔
یہ تحقیق University of California Los Angeles کے ماہرین نے کی، جنہوں نے کیلشیم آکسالیٹ پتھریوں کے اندر زندہ بیکٹیریا اور بائیو فلمز دریافت کیں۔
حیران کن دریافت
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے الیکٹران اور فلوروسینس مائیکروسکوپی کی مدد سے گردے کی پتھری کا تفصیلی معائنہ کیا۔
نتائج کے مطابق:
-
پتھری کی بیرونی سطح پر بیکٹیریا موجود تھے
-
بیکٹیریا پتھری کے اندر بننے والے کرسٹل کے درمیان بھی زندہ حالت میں پائے گئے
ماہرین کے مطابق گردے کی پتھری کی تقریباً 80 فیصد اقسام کیلشیم آکسالیٹ سے بنتی ہیں۔
ماہرین کا مؤقف
محقق ڈاکٹر کیمورا سکاٹ لینڈ کے مطابق یہ دریافت اس نظریے کو بدل سکتی ہے کہ پتھری صرف کیمیائی عمل سے بنتی ہے۔
ان کے مطابق بیکٹیریا نہ صرف پتھری کے اندر موجود ہوتے ہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔
نئے علاج کی امید
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ:
-
بار بار پیشاب کی نالی کے انفیکشن
-
اور گردے کی پتھری بننے کے درمیان کیا تعلق ہے
محققین کا خیال ہے کہ گردے کی پتھری کو اب نامیاتی اور غیر نامیاتی اجزاء کے مرکب کے طور پر دیکھنا چاہیے جس میں بیکٹیریل بائیو فلمز اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مزید تحقیق کی ضرورت
سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ:
-
کن مریضوں میں بار بار پتھری کیوں بنتی ہے
-
اور بیکٹیریا کی کون سی اقسام اس عمل میں زیادہ کردار ادا کرتی ہیں
واضح رہے کہ گردے کی پتھری دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے اور یہ بیماری شدید درد اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔