لوگوں کی جانب سے جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے متعدد طریقے آزمائے جاتے ہیں جیسے ڈائیٹنگ، ورزش اور دیگر۔
مگر نیند کو بہتر بنانے کا خیال بیشتر افراد کے ذہن میں نہیں آتا۔
مگر نیند کی کمی اور موٹاپے کے درمیان تعلق موجود ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں شائع تحقیق میں نیند اور جسمانی وزن کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ نیند کی کمی سے غذائی عادات، میٹابولزم، ہارمونز کے توازن اور جسمانی وزن میں کمی کی کوششوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی سے لوگوں کی کھانے کی اشتہا بڑھ جاتی ہے اور وہ زیادہ مقدار میں کیلوریز کو جزوبدن بنانے لگتے ہیں۔
یہ بھی دریافت کیا گیا کہ اچھی نیند سے لوگوں کو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔محققین کے مطابق نیند کی کمی سے بھوک اور اشتہا میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ میٹابولک افعال تبدیل ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی سے گلوکوز اور انسولین کی حساسیت گھٹ جاتی ہے جبکہ تناؤ بڑھانے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول کی سطح شام میں بڑھ جاتی ہے جس سے لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں۔
درحقیقت وہ افراد ایسی غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں جن سے جسمانی وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی سے بھوک اور کھانے کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسمانی وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم وقت کی نیند سے موٹاپے کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
بے خوابی کے شکار افراد میں زیادہ چربی اور چینی والی غذاؤں کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور یہ غذائیں موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ عہد میں اسمارٹ ڈیوائسز کے باعث لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں جس کے باعث نیند کا دورانیہ گھٹ رہا ہے۔