آئے دن نوجوانوں کی موت میں اضافہ؟ تحقیق نے حوش اڑا دیئے

دنیا بھر کی طرح برصغیر میں بھی نوجوانوں کی اچانک اموات ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں فائل فوٹو دنیا بھر کی طرح برصغیر میں بھی نوجوانوں کی اچانک اموات ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں

دنیا بھر کی طرح برصغیر میں بھی نوجوانوں کی اچانک اموات ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں جس کے سبب ماہرین بھی فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔

ایسے میں خاص طور پر بظاہر صحت مند دکھائی دینے والے نوجوانوں کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرجانا نہ صرف خاندانوں بلکہ طبی ماہرین کے لیے بھی انتہائی باعثِ تشویش ہے۔

بھارت کے معتبر اداروں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اچانک اموات کے زیادہ تر واقعات نوجوان عمر کے افراد میں پیش آ رہے ہیں، اور ان میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

تحقیق کے مطابق اچانک ہارٹ اٹیک سے مرنے والوں میں تمام عمر کے گروپوں میں مرد نمایاں رہے، جبکہ ان اچانک اموات کا کووڈ19 سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

یہ تحقیق انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ میں شائع ہوئی، جس میں 2 ہزار 200 سے زائد پوسٹ مارٹم رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 180 کیسز کو اچانک موت کے زمرے میں رکھا گیا، جن میں 58 فیصد اموات 18 سے 45 سال کے افراد کی تھیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد بظاہر مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیتے تھے اور انہیں کسی قسم کی سنگین بیماری کی پہلے سے تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اچانک موت اس حالت کو کہا جاتا ہے جب کوئی فرد علامات ظاہر ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر یا بغیر کسی مشاہدے کے 24 گھنٹوں کے اندر انتقال کر جائے۔

اس تحقیق میں حادثات، خودکشی، زہر خورانی، منشیات کے استعمال اور پہلے سے معلوم شدید بیماریوں کے کیسز کو شامل نہیں کیا گیا، تاکہ نتائج زیادہ واضح اور مستند رہیں۔

تحقیقی نتائج کے مطابق نوجوانوں میں اچانک اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کی پوشیدہ بیماریاں ہیں، جن میں پیدائشی قلبی نقائص، دل کے عضلات کی بیماریاں اور دل کے برقی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔

نوجوان افراد میں اوسط عمر 33 سال سے کچھ زیادہ رہی، جبکہ بڑی عمر کے افراد میں یہ اوسط تقریباً 54 سال ریکارڈ کی گئی۔ بڑی عمر کے افراد میں کورونری شریانوں کی بیماری کو اچانک موت کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

ماہرِ قلب اور میڈانتا اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر نریش ترہان کے مطابق نوجوانوں میں اچانک اموات کی کئی وجوہات ایسی ہیں جو عام معائنے میں سامنے نہیں آتیں، جن میں ہائپرٹرافک کارڈیو مایوپیتھی، برگوڈا سنڈروم، ہارٹ بلاک اور خاندانی دل کے امراض شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دل کی یہ بیماریاں خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں اور اچانک جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟
طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ 25 سال کی عمر سے پہلے دل کا تفصیلی معائنہ کروائیں اور 30 سال کی عمر تک مکمل ہیلتھ اسکریننگ کو معمول بنائیں۔

ان کے مطابق بروقت تشخیص، متوازن طرزِ زندگی، باقاعدہ ورزش اور اسکریننگ کے ذریعے نوجوانوں میں اچانک اموات کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

 

install suchtv android app on google app store