ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوئیڈن کے ایک جزیرے میں پائے جانے والے قبل از تاریخ بھیڑیوں کی باقیات بتاتی ہیں کہ کتوں سے ہزاروں برس قبل انسان بھیڑیوں کو پالا کرتے تھے۔
سوئیڈن کے ایک جزیرے اسٹورا فورور میں دریافت ہونے والی قبل از تاریخ بھیڑیوں کی باقیات نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔
اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے محققین کے مطابق یہ باقیات 3000 تا 5000 برس پرانی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ انسان کتے سے بہت پہلے بھیڑیوں کو پالتے تھے۔
غار میں پتھر اور کانسی کے دور کے دوران بھیڑیوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے شواہد ملے۔
جزیرے کا رقبہ صرف 2.5 مربع کلومیٹر ہے اور یہاں مقامی زمینی ممالیہ کے شواہد نہیں ملے، جس سے محققین نے نتیجہ نکالا کہ یہاں لوگ بھیڑیوں کو پال رہے تھے۔
سائنسدانوں کے مطابق کتے سب سے پہلے پالے جانے والے جانور تھے، اگرچہ ان کی ابتدا کا وقت بالکل واضح نہیں ہے، مگر تخمینے 13 ہزار سے 30 ہزار برس قبل کے درمیان ہیں۔
محققین نے قدیم کتے اور بھیڑیوں کی ہڈیوں میں فرق کے ذریعے پہچان کی کہ کون سے کتے گھریلو تھے۔
گھریلو کتوں کے دانت چھوٹے ہوتے تھے اور ان کے ماتھے کی ہڈی، جسے “سیجٹل کریسٹ” کہتے ہیں، کمزور اور چھوٹی ہوتی تھی۔
بیلجیئم میں 2008 میں دریافت ہونے والی قدیم ترین کتوں کی ہڈیاں 31,700 سال پرانی تھیں۔
قدیم کتے روس، یوکرین، یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا میں بھی دریافت ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتوں کی پالنا ایک وسیع اور عام روایت تھی۔
ڈی این اے کے مطالعے سے بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ گھریلو کتوں کی ابتدائی نسل تقریباً 15,000 سے 20,000 سال پرانی ہے۔
تاہم بعض ماہرین کہتے ہیں کہ جینیاتی تبدیلی کی رفتار مستقل نہیں، اس لیے یہ تخمینے محض تقریبی ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ کتے بنیادی طور پر دستیاب بھیڑیے تھے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ انسان کی ابتدائی بستیوں میں پیدا ہونے والا کچرا بھیڑیوں کو کھینچتا تھا۔
جو بھیڑیے انسان کے قریب آتے لیکن جارحانہ نہیں ہوتے تھے، انہیں خوراک ملتی رہی۔ چند نسلوں کے بعد ان کے دانت چھوٹے اور ناک کمزور ہو گئے۔
اس ابتدائی عمل کے بعد انسان نے کتوں کو شکار، ریوڑ سنبھالنے، پہرہ دینے اور سامان لے جانے کے لیے پالا اور نسل بڑھانے کا عمل شروع کیا۔
باقی جانوروں کی پالتو جانور کی حیثیت سے شمولیت بعد میں ہوئی۔ تقریباً 11,000 برس قبل بھیڑ اور بکریاں پالی گئیں، بلیاں تقریباً 7000 قبل مسیح میں پالی جانے لگیں جب لوگ زرعی پیداوار جمع اور ذخیرہ کرنے لگے۔
تقریباً 4000 قبل مسیح میں گائے، گدھے، اونٹ اور گھوڑے سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیے جانے لگے۔
گھوڑوں کو بعد میں سواری اور سامان لے جانے کے لیے بھی پالا گیا، لیکن ماہرین میں اختلاف ہے کہ کس مقصد کے لیے سب سے پہلے پالے گئے۔
یہ تحقیق انسان اور جانوروں کے دیرینہ تعلقات کو سمجھنے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ کتے پہلی پالتو نسل کی حیثیت سے انسان کی زندگی میں شامل ہوئے تھے، ہزاروں برس قبل بھی انسان نے قدرتی شکار کو اپنے ساتھ قریب رکھنے کے لیے پالا کرتے تھے۔