نیند کو صحت کے لیے بہت اہم قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس کی کمی سے مختلف امراض اور جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔
مگر کتنے گھنٹے کی نیند زندگی کو مختصر بنانے کا باعث بنتی ہے؟
اس بات کا جواب ایک نئی طبی تحقیق میں دیا گیا۔
جرنل سلیپ ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد ہر رات 7 گھنٹے سے کم نیند کو معمول بنا لیتے ہیں، ان میں جلد موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں امریکا کی 3 ہزار سے زائد کاؤنٹیز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی اور ہر خطے میں رپورٹ کیے گئے نیند کے دورانیے کا موازنہ اوسط عمر سے کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ جن کاؤنٹیز میں لوگ 7 گھنٹے سے کم وقت تک سونے کے عادی تھے، وہاں اوسط عمر دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم تھی۔
تحقیق کے مطابق زیادہ آمدنی اور غریب علاقوں سمیت شہروں اور دیہات میں نیند کی کمی اور جلد موت کے درمیان تعلق دریافت ہوا۔
محققین نے بتایا کہ متعدد افراد ہر رات 78 گھنٹوں سے کم وقت تک سوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے توقع نہیں کی تھی کہ نیند کی کمی اور اوسط عمر میں کمی کے درمیان اتنا ٹھوس تعلق ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ سوچتے ہیں کہ نیند اہم ہے مگر اس تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگوں کو کم از کم 7 گھنٹے کی نیند کو معمول بنانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی بھی تمباکو نویش، موٹاپے، ذیابیطس، جسمانی سرگرمیوں سے دوری، ناقص غذاؤں کا استعمال اور دیگر عناصر کی طرح اوسط عمر میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی سے ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، خون کی شریانوں کے امراض، فالج، ہارٹ اٹیک، ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔