معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان فرح حسین نے کہا ہے کہ انہوں نے بہتر ازدواجی زندگی گزارنے اور بچوں کی پرورش کی خاطر اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔
فرح حسین نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام میں شرکت کی جہاں مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔
فرح حسین نے کہاکہ انہوں نے بطور اداکارہ کیریئر کا آغاز کیا تھا لیکن جلد ہی پاکستان ٹیلی وژن پر شو کرنا شروع کردیا۔
جس وقت انہوں نے پی ٹی وی پر مارننگ شو شروع کیا، اس وقت اور بعد میں بھی کافی وقت تک نجی چینلز پر مارننگ شوز کا رجحان نہیں تھا۔
فرح حسین نے بتایا کہ ان کی کم عمری کی وجہ سے انہیں متعدد بار مارننگ شو کی میزبانی کے لیے مسترد کیا گیا لیکن بالآخرانہیں شو کرنے کاموقع مل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا شو مقبول ہوگیا۔
ایک سوال کے جواب میں فرح حسین نے کہا کہ زندگی خدا کی جانب سے انسان کو عطا کیا گیا سب سے خوبصورت تحفہ ہے، ہر لمحے، ہر سانس اور ہر دن کو خوبصورت تحفہ سمجھ کر گزارا جانا چاہیے۔
فرح حسین نے کہاکہ وہ سنجیدہ طبیعت کی مالک ہیں اور سنجیدہ شخصیت رکھنے کی وجہ سے خود کو خوش قسمت بھی تصور کرتی ہیں۔
سنجیدہ طبیعت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو دوسروں کے درد کا احساس ہے لیکن جس دن کسی کو کسی کی تکلیف کا احساس ہونا بند ہوگیا اس دن وہ شخص کسی کام کا نہیں رہتا۔
یکطرفہ محبت کے سوال پر فرح حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی یک طرفہ محبت نہیں کی، تاہم ان کا خیال ہے کہ ایسی محبت بے وقوفی ہوتی ہے۔
محبت ایک سے زائد بار بھی ہوسکتی ہے لیکن ایک وقت میں ایک ہی شخص سے محبت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے خصوصی طور پر لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ شادی کا فیصلہ اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر نہ کریں، وہ والدین پر اپنی شادی کا فیصلہ مسلط نہ کریں۔
لڑکوں کو بھی والدین کی رضامندی سے ہی شادی کرنی چاہیے، اگر کوئی محبت کی شادی بھی کرتا ہے تو وہ والدین کی رضامندی سے کرے۔
والدین کی صورت میں ہر شخص کو خدا ملتا ہوتا ہے، والدین بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔
میزبانی کے مقابلےمیں اداکاری کو وقت نہ دینے کے سوال پر فرح حسین کہا کہ انہوں نے بہتر شادی شدہ زندگی گزارنے اور بچوں کی پرورش کی خاطر اداکاری کو چھوڑا تھا۔
اداکاری میں بہت وقت دینا پڑتا ہے، پورا پورا دن سیٹ پر گزر جاتا ہے، اس لیے انہوں نے شادی کے بعد بہتر ازدواجی زندگی اور بچوں کی پرورش کی خاطر اداکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔