موٹیویشنل سپیکرز اور ہم

موٹیویشنل سپیکر فائل فوٹو موٹیویشنل سپیکر

موٹیویشنل سپیکرز اور ہمارا آج سے ایک ماہ قبل دور دور تک واسطہ نہ تھا ۔کیونکہ ہمیں اپنے بقراط ہونے کا یقین کامل ہے اس لئے ہم کبھی کسی کی نصیحت پر کان نہیں دھرتے ۔ کیونکہ کان سننے کے لئے ہوتے ہیں دھرنے کے لئے نہیں ( دھرنا تو صرف سیاسی جماعتیں دیتی ہیں ، ہم تو مظلوم صحافی ہیں جو سب کا دکھ لکھتے ہیں لیکن ہمارے درد کا کسی کو احساس تک نہیں )

خیر ہمارے گھر اور پھر دفتر میں ہم سے بڑے سیانے موجود ہیں ۔ ابا ہیں تو انھیں ہمارے کائو بوائے ہونے پر اعتراض ہے ، آپا ہیں تو انھیں ہمارے پھوہڑ پن کا گلہ ہے اور اماں بے چاری ہمارے متوقع سسرال سے ڈراتی رہتی ہیں ۔
ہمیں غصہ بہت آتا ہے اور بعد میں ندامت بھی بہت ہوتی ہے اور افسوس یہ بھی ہوتا ہے کہ عین غصے کے وقت ہمیں پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا اور ہم پیاس کے مارے غصے میں پیچ و تاپ کھاتے رہتے ہیں اور تو اور کسی کو توفیق بھی نہیں ہوتی کہ ہمیں کوئی کرسی دے کر بٹھا دے اور پانی کا ایک گلاس ہی پلا دے ۔
خیر اس غصے کے مسئلے کا حل ہماری ایک اچھی کولیگ ( اچھی اسلئے کہا کہ آج کل کولیگ بھی سب اچھے نہیں ہوتے ) نرما نے ہمیں موٹیویشنل سپیکرز کی ویڈیوز دیکھنے کا مشورہ دیا ۔ اسکی باتیں سن کر مجھےیوں لگا کہ جیسے میں بی اے کی نفسیات کی کتاب کھول کر بیٹھی ہوں یعنی کہ ہمارے مسئلے چٹکی بجاتے یوں حل ہو جائیں گے ۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی کو ذرا سا بتا دو کہ جناب ہم تو اپنے اندر اچھے کاموں کی تحریک پیدا کرنا چاہتے ہیں فورا انسان پر نفسیاتی مریض ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے جو کہ یقینا بہت بری بات ہے ) ۔
خیر نرما کے کہنے پر ہم نے باقاعدگی سے کئی موٹیویشنل سپیکرز کو سننا شروع کیا ۔ پہلے دن کے لیکچر میں یہی تھا کہ جناب غصہ نہ کریں یہ ایک اختیاری عمل ہے کیونکہ یہ آپ خود سے کمزور پر نکالتے ہیں اور طاقتور کو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ آپ کو اپنے گھر کے مسائل یوں حل کرنے چاہیں ۔ شادی نہ ہو رہی ہو تو خود میں سعادت مندی اور سلیقہ شعاری پیدا کریں ۔ موبائل کو خود سے دور کر دیں ۔ ہر وقت درسی کتب کھول کر بیٹھ جائیں ۔ یعنی معاشرتی برائیوں کے خاتمے سے متعلق لیکچر ہم گذشتہ ۱۵ دن سے سن رہے تھے اور اثر کوئی خاص نہیں معلوم ہو رہا تھا ۔
کوئی موٹیویشنل سپیکر ہمیں اپنی کتابیں خریدنےکے لئے کہتا تو کوئی یو ٹیوب پر اپنا چینل سسبکرائب کرنے کی ہدایت کرتا ۔ کوئی ایسی بات کرتا کہ دل کرتا کہ سکرین میں سے ہی اسکو نکال کر پھینٹی لگا دی جائے کہ یعنی ہم اتنے برے ہیں اور ہمیں اتنے سدھار کی ضرورت ہے ۔ ایک ماہ تو آرام سے گذر گیا اب رمضان کا مہینہ آگیا ۔ برا ہو ہماری دوست کا جو ہمیں افطاری پر بلانا چاہ رہی تھی عین وقت پر اسکے فون کیوجہ سے ہماری آفس فائل مکمل نہ ہو سکی ۔ پھر نہ باس نے رمضان کا خیال کیا اور نہ میں نے یعنی کہ سب کچھ ہوا ہو گیا ۔
آج کل ہمارے ہاں اینٹ اٹھائو تو موٹیویشنل سپیکر مل رہا ہے کوئی ۷۰ سال کا بابا ہے تو کوئی ۱۵ سال کا نوخیز جوان ۔ سب کے لبوں پر بس نصیحتوں کے انبار لگے ہیں ۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ہر کسی کے حالات اور ماحول مختلف ہے ۔ ہر کسی کی سوچ اور تعلیم و تربیت الگ ہے تو آپ سب کو ایک جیسا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں ؟ یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ عقلی اور عملی اعتبار سے بھی درست ہو ۔
پھر دور کے ڈھول سہانے والی بھی بات ہے یعنی ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ۔بعض موٹیویشنل سپیکرز کے بارے میں آپ ان کے رشتہ داروں اور احباب سے پوچھیں تو آُپ کو بہت خوشی محسوس نہیں ہو گی ۔
کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو انگریزی کتب کا ترجمہ کر کے ویڈیوز بناتے ، اپنی اکیڈیمز کھولتے اور پھر انہی ادھوری معلومات کی بنا پر کتابیں بھی لکھ رہے ہیں یعنی کہ افسوس صد افسوس ۔ اگر ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کا جائزہ لیں تو انھوں نے زبانی تبلیغ بہت کم کی کیونکہ ان کا کردار ہی اتنا اعلی اور بے داغ تھا کہ مقابل خود ہی زیر ہو جاتا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا تھا ۔
ہمارے اس بلاگ کا مقصد آپ کو کوئی نصیحت کرنا ہر گز نہیں لیکن اگر انہی باتوں سے کسی کو بھی کوئی سبق مل جائے تو ہمیں ان نام نہاد موٹیویشنل سپیکرز کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store