آواز خلق سے ڈرنا چاہئے

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ
آواز خلق سے ڈرنا چاہئے فائل فوٹو آواز خلق سے ڈرنا چاہئے
کہتے ہیں وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے نقشہ رنگ و روپ ہیبت و قدرت ،جلوہ ، سوچ و فکر اور وہ سب کچھ جو آپ سوچ سکتے۔
کالاباغ کے ایک مقامی ہوٹل پر چسپاں پوسٹر نے ذہن کے نقشے الٹ دئیے بزرگوں کی سنائی سچی باتوں نے کہانیوں کا روپ دھار لیا۔ کئی آبیتیاں محض داستانیں لگنے لگیں۔ بزرگ اکثر نواب آف کالاباغ کے قصے سنایا کرتے تھے ان کی سلطنت میں ان کے حکم کے بغیر چڑیا پر نہیں مارتی تھی۔
 
ان کی آمد پر کالاباغ پل پر باقاعدہ روٹ لگایا جاتا اور شہری دست بستہ قطار میں ایسے کھڑے ہوجاتے کہ کہیں نواب کو ان کی کوئی ادا بری نہ لگے اور چشم زدن ان کی موت کا پروانہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے ۔۔ کئی واقعات سینہ بہ سینہ موجود ہیں کہ نواب کے گماشتوں نے نہ جانے واسیوں پر کیا کیا ظلم ڈھائے ۔ ادنی سی مثال کے طور پر ایک مشہور خونی واقعہ کہ نواب کی زمینوں میں چرواہا کے جانور کیا چلے گئے کہ گماشتوں نے گولی چلا دی اور نوجوان جان سے گیا۔ خیر یہ بھی مشہور ہے کہ نواب کے حرم میں سے کوئی نوابزادی باہر نکلتی تو باقاعدہ اعلانات کئے جاتے مجال کسی واسی کی نظر اٹھے نظر ا ٹھنا تو درکنار وہ نظر آ جائے ۔۔۔ ہو کے عالم میں نوابزادیاں گزر جاتیں پھر منادی ہوتی اور آہستہ آہستہ بازار کی رونق بحال ہونا شروع ہو جاتی۔
 
پھر وقت گزرا نواب صاحب فوت ہوئے یا مارے گئے ۔۔ ان کے صاحبزادے نے حویلی کا نظام و انصرام سنبھالا ۔۔ وہی قاعدے وہی قوانین ۔۔۔ بغوچی محاذ نکل کھڑا ہوا اور پھر سب نے دیکھا کہ جن کی ہیبت سے سے لوگ دست بستہ کھڑے ہوتے وہ گالیاں دیتے اٹھ کھڑے ہوئے اور یوں ہیبت و طاقت کا سقوط ہوا ۔۔ آج میں نے ایک عام سے ہوٹل پر نوابزادی سمیرا ملک اور ملک محمد خان کی تصویر دیکھی مجھے بتایا گیا کہ نواب زادوں کے ہمراہ نوابزادیاں سیاسی جلسوں میں بھی شریک ہوتی ہیں مجھے قبل الذکر بیان کردہ سب باتیں کہانیاں لگنے لگیں وقت نے سب کچھ بدل دیا ہے۔
 
ایک وقت تھا کہ سیاست میں نواب کے مخالفت میں کوئی الیکشن میں حصہ نہیں لیتا تھا موجودہ انتخاب 2018 میں کسی کو معلوم ہی نہیں کہ نواب کا کویی پوتا یا بیٹا انتخاب لڑا بھی ۔۔ اگر کبھی آپ کالا باغ جائیں تو وہاں کے لوگوں سے عروج و زوال، اور تبدیلی کی یہ داستان ضرور سنئے گا ۔۔ یقینا آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آواز خلق نقارہ خدا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے دئیے گئے منصب پر فرعون بننے کی بجائے ہمیں اس کی مخلوق کا خادم بننا چا ہئے ۔ تخت پر بیٹھ کر گدا کا دکھ سمجھنا چاہئے۔ ہم جس بھی مقام پر ہوں آواز خلق سے ڈرنا چاہئے۔
subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store