“نالۂ بے باک”

وزیر اعظم عمران فائل فوٹو وزیر اعظم عمران

آج اک خبر میری نظر سے گزری ''خلا میں دنیا کی پہلی فلم کی شوٹنگ مکمل ہوگئی،،

آپ سوچ رہے ہوں کہ یہ کونسی بات ہے ہالی وڈ کی لا تعداد فلموں میں دکھا چکے ایسے سین۔اور ناسا بھی آئے روز خلا سے کوئی نہ کوئی تصویر شئیر کرتا رہتا ہے لیکن بات ہے ذرا مختلف یہ دنیا کی پہلی فلم ہے جس کی شوٹنگ حقیقی طور پر خلاء میں کی گئی ہے جبکہ اسے روس کے قومی خلائی تحقیقی ادارے ’’روسکوسموس‘‘ کی سرپرستی حاصل ہے۔اس سے پہلے جتنی فلمیں بھی بنائی گئیں، ان میں خلا کے مناظر کی تمام شوٹنگ زمین پر اسٹوڈیوز میں کی گئی ہے۔۔ جی میں جانتا ہوں کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ اس خبر کا ذکر کیوں کیا میں نے یہ آگے چل کر بات کریں گے۔آیئے اب اصل بات پر آتے ہیں۔۔تیل کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑھ گئیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑھ گئیں۔۔مہنگائی کرونا کی وبا کی ویکسین کے آنے کے بعد پوری دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے یہ سب آپ نے سارا دن نیوز ہیڈ لائنز میں سنا اور آپ نے یہ بھی سنا ک تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوتا ڈالر روپے کے مقابلے میں 173پر کھڑا ہو گیا۔۔۔حد تو یہ ہے کے حکومتی وزیر ، مشیر اس مہنگائی کو ہم پر تھوپ کر یہ تک کہتے سنائی دیئے کہ اس کا کوئی آپشن ہے تو واویلا کرتی اپوزیشن ہمیں حل بتائے۔۔۔لیکن حکومت جس نے مہنگائی کا توڑ نکالنا ہے جس کو ہم نے ووٹ اس کام کے دیئے کہ ہماری مشکلات کا حل نکالے وہ سوائے مہنگائی کا اعتراف کرنے اور اسکا ڈٹ کر دفاع کرنے ک علاوہ کچھ کرتی دیکھائی نہیں دیتی۔۔۔ڈالر کو “free Float” پالیسی کے تحت چھوڑ دینا، سبسی ڈیز کا خاتمہ کر دینا، قرضوں کا بوجھ اتارنے کے لئے بین الاقوامی اداروں کی شرائط ماننا، انڈسٹریلائزیشن کی تقویت کے لئے ٹیکسز میں چھوٹ نہ دینا، امپورٹ ایکسپورٹ کے فرق کو کم نہ کر پانا، مزید تین سو تیس ارب کے قریب سیلز ٹیکس چھوٹ بھی جلد ختم ہونے جا رہی ہے جس کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ اور جو فصل پاکستان میں پیدا ہوتی تھی وہ بھی باہر سے کیوں منگوانی پڑ رہی ہے؟۔۔
کیا یہی وہ سوالات ہیں نا جو آپ سب روز سوچتے اور پوچھتے ہیں۔۔۔عجیب بات تو یہ ہے کہ یہی سوالات جب حکومت خود اٹھانا شروع کور دے دفاع کے طور پر تو آپ اور ہم اب اور کچھ سوچنے کے قابل رہتے ہیں۔؟ ترقی کرنا ہوگی، تعلیم کے میدان میں آگے جانا ہوگا، سائنٹسٹ پیدا کرنے ہونگے اور بہت کچھ وزیرِ اعظم فرماتے اور خواب دکھاتے رہے ہیں۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کو صرف انتہائی ضروریاتِ زندگی کے حصول میں پھنسا دیا جائے ،تنخواہ ، خرچہ، بِل، خوراک ، گھر کا کرایہ پورا کرنے میں پورا مہینہ جتُے رہیں گے تو سوچ پائیں گے کبھی کہ خلا میں پہلی فلم بنانی ہے یا خلا میں پہلا سیٹلائٹ بھیجنا ہے؟؟؟ جب پیٹ میں بھوک اور جیب خالی ہو تو انسان کی سوچ باغی ہوجاتی ہے تعمیری نہیں۔۔۔۔۔اگر کچھ دینا ہے خان صاحب تو پیٹ اور جیب کا سکھ دو ، ورنہ بڑی بڑی باتیں کتابوں میں رہنے دو۔۔۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store