مہنگائی

بڑھتی ہوئی مہنگائی فائل فوٹو بڑھتی ہوئی مہنگائی

آج کل ہر ایک کی زبان پہ ایک ہی نعرہ ہے مہنگائی ،مہنگائ مہنگائی ... بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں جہاں ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے وہی پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔ ہر طرف روز مرہ کی اشیاۓ ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی تکرار ہے۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں۔

لوگ حیران ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی پہ ہر ذہن میں ایک ہی سوال ہے آخر اس مہنگائی کی کیا وجہ ہے؟ موجودہ حکومت عوام سے وعدے اور دعوے کر کے ووٹ تو لے چکی لیکن تبدیلی سرکار نے عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ۔ کوئی وعدہ وفا نہ ہوا اور غریب عوام کو کوئی ریلیف نہ فراہم ہوسکا۔ ایسے میں عوام جائے تو کہاں جائے؟
اگر پچھلے ادواروں کی بات کی جائے تو اس سے پہلے حکومتوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب سے پاکستان بنا ہے کسی بھی حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا، آخر یہ مہنگائی ہوئی کیوں؟ کون سی غلط پالسیاں تھی جنہوں نے اس ملک کی معشیت کا بیڑہ غرق کردیا؟

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کا تناسب دس اعشاریہ چھ فیصد ہے جبکہ دنیا میں اس کی اوسط شرح چار فیصد سے بھی کم ہے۔

مہنگائی کا بے قابو جن غریبوں کونگل رہا ہے۔ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بھوک وفلاس اور انتہائی شدید قسم کے غذائی بحرانوں نے عالمی سطح پر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ دُنیا کے متعدد ممالک میں مہنگائی کے آسیب نے خوفناک صورتحال سے عوام کو دوچار کر دیا ہے۔ اس خوفناک صورتحال نے پاکستان کو بھی بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

تعلیم، ادویات، کرایے اور روز مرہ کی اشیاء غریب کی دسترس سے بالا تر ہوتی جارہی ہیں۔ نہ صحت، نہ تعلیم اور نہ رہائش، آخر غریب کے لیے ہے کیا؟ مہنگائی کے باعث کئی افراد خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ملک کے غریب افراد مجبوراً اپنے گردے فروخت کرتے ہیں جبکہ غربت اورمہنگائی کی وجہ سے کئی غریب والدین نے اپنے بچوں کے گلوں پر چھریاں چلا کر ہمیشہ کی نیند سلا دیا ہے۔
مہنگائی کی اس خوفناک اور وحشت ناک صورتحال کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ملک اور اس کی عوام کس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ عالمی بنک کے مطابق دنیا بھر میں اشیاء خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کروڑوں غریب افراد کو مزید غریبی کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ ان چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں دو سو فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ دُنیا بھر میں اس مہنگائی اور غذائی بحران نے کتنے افراد کے دلوں سے خوشیاں اور ہونٹوں سے مسکراہٹیں چھین لی ہیں۔
عالمی سطح پر مہنگائی کا بول بالا ہے لیکن اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ملک پاکستان میں خوردنی اشیا مثلاً سبزی، دالیں، گوشت اور دیگر اشیاء کی قیمتیں ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ مہنگائی کی سطح عروج پر ہے جو غریب عوام سے کوسُوں دور ہے۔ ہمارے ملک میں مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ معاشرے کا کون سا ایسا طبقہ ہے جو اس کمر توڑ مہنگائی سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔ غریب اور مزدور طبقے کی تو بات ہی مت پوچھیے، ان کے یہاں تو چولہا جلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
اب اگر بات کی جائے کہ مہنگائی پر قابو پانا کیسے ممکن ہے تو اسکا حل آسان ہے لیکن کرے بھی تو کون ؟ پاکستان کو بھی اسی طرح کرنا ہوگا جس طرح جدید ملکوں نے کیا ہے۔
دنیا نے مارکیٹ کھلی چھوڑ کر اس میں مسابقت کا رجحان پیدا کیا ہے جو پاکستان میں بالکل نہیں ہے۔مثال کے طور پر اگر سبزی پچاس روپے کلو ہے تو عوام کو زیادہ سے ذیادہ پچپن روپے کلو ملنی چاہیئے لیکن یہاں ایسا نہیں پچاس روپے کلو درآمد کی جاتی ہے جبکہ ایک سو پچاس میں ہم جیسی عوام کو ملتی ہے ،وجہ آڑھت ۔۔۔۔آڑھت کو درمیان سے نکالو تو صارف کو سستے دام سبزی با آسانی مل سکتی ہے۔۔۔اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں جس میں آڑھت مافیہ بنا ہے۔۔اس مقصد کے لیے پاکستان کو یا تو اپنی بڑی بڑی سپر مارکیٹ چینز بنانی ہوں گی یا پھر وال مارٹ، ایسڈا، ٹیسکو اور آلڈی کی طرح کے انٹرنیشنل سپر سٹورز کے لیے مارکیٹ کھولنی چاہیے۔
مہنگائی نے تو جینا حرام کیا ہی ہے اوپر سے حکومتی نمائندے بھی اپنی وزارتیں بچانے میں مصروف ہیں اور عوام کو عجیب عجیب منطق پیش کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ہمارے ایک وزیر نے عجیب منطق پیش کی۔۔۔
علی امین گنڈاپور کا چینی، روٹی
کم کھانے کا مشورہ: کیا یہ پاکستان میں مہنگائی جیسے مسئلے کا حل ہے؟

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store