حکومت، فیصلہ، مفادات اور عوام

وزیر اعظم عمران خان فائل فوٹو وزیر اعظم عمران خان

قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوبار سوچو پھر قدم اٹھاؤ، جب قدم اٹھا لو تو پھر اس پر ڈٹے رہو یہاں تک کے وہ فیصلہ صحیح ثابت ہوجائے۔ آخر ایسا کیوں کہا گیا؟

بظاہر تو یہ کسی ضدی انسان کا مزاج لگتا ہے لیکن تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اس میں موجود روشن ستاروں کی اکثریت ایسے ہی مزاج والوں کی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ انہیں تسلیم کرلیا گیا اور بعض ایسے بھی ہیں کہ جن کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ان کے فیصلے یا ان کے کام کو تسلیم کیا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے کچھ فیصلے ایسے تھے جنہیں وقتی طور پر تو تنقید کا سامنا رہا لیکن وقت نے انکی سچائی کو ثابت کردیا۔
انسانوں نے بہت سارے نظاموں کو تشکیل دیا کتنے ایسے جو نافذ ہونے سے قبل ہی معدوم ہوگئے اورجو آزمائے گئے انکی کامیابی اوسط درجے سے اوپر نہیں جا سکی، دنیا میں دو ایسے نظام ہیں جن میں سے ایک مقدار چلتا ہے اور دوسرا وہ جو میعار پر یقین رکھتا ہے۔گوکہ خلافت وجود میں نہیں ہے لیکن یہ دائمی نظام مملکت ہے اسلئے باطل قوتیں اس کے نفاذ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ مقدار جمہوریت ہے اور میعار خلافت، تھوڑا سا خلافت اور جمہوریت کا بھی موازنہ کرلیتے ہیں، دنیا خوب واقف ہے کہ خلافت میں کس طرح سے بہترین فیصلہ سازوں کا انتخاب کیا جاتا رہا اور پھر یہ بہترین فیصلہ ساز بہترین فیصلے کرتے رہے ہیں آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ بہترین دماغوں پر مشتمل شوری عوام کیلئے عوام کے حق میں بہترین فیصلے کرتی ہے اسکا کام دواندیشی سے کام لینا ہوتا تھا نا کہ جذباتی فیصلے کرنا اور عوام جو سوچ سمجھ سے کسی حد تک عاری ہوتی ہے کی خواہش کیمطابق فیصلے کرنا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ایسے فیصلے بھی ہوتے ہوں جو عوام کی خواہش کے عین مطابق ہوتے ہوں۔ پس ثابت یہ ہوتا ہے کہ خلافت میں گنتی نہیں گنی جاتی بلکہ ذہنی میعار دیکھا جاتا ہے جو دین و دنیا سے بھرپور ہم آہنگ ہو۔ جمہوریت کے نام سے تو سب ہی واقف ہیں۔ یہ وہ نظام حکومت ہے جس میں اقتدار اکو ایک مخصوص طبقے کیلئے مرتب کیا جاتا ہے اور جو اس بات کی ضمانت کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں کی بنیاد پر اس مخصوص طبقے کی رکنیت حاصل کرلیتے ہیں۔ فیصلے ہوتے تو صاحب اقتدار کی مرضی کے ہیں لیکن اسکی توثیق سڑکوں پر عوام سے کروالی جاتی ہے کیونکہ عوام کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ فرد جو ہماری زبان بولتا ہے، جو ہمارے مسلک سے تعلق رکھتا ہے، یا پھر یہ ہمارے علاقے کا ہے۔کہا تو یہ جاتا ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کیلئے لیکن مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔
موجودہ صاحب اقتدار کی زندگی کے حالات بھی کسی ایسے ہی مزاج کے شخص سے مماثلت رکھتے ہیں کہ جو ٹھان لیا جس منزل کی طرف قدم بڑھا دیا تو پھر وہاں پہنچ کر ہی دم لیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے جن حالات میں اقتدار سنبھالا وہ حالات کوئی نئے نہیں تھے پاکستان میں ہمیشہ ہی انتقال اقتدار کے بعد عوام کو یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ اگر جانے والی حکومت کچھ دن اور گزار لیتی تو پاکستان دیوالیہ ہوجاتا۔ تحریک انصاف تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی اور عوام نے ووٹ بھی اس نعرے کو دیا اور اس بات کو ذہن میں رکھ کر دیا کہ جس نے یہ نعرہ لگایا ہے اسکے لئے یہ ایک اور عالمی کپ جیتنے کیلئے نکلنے سے کم نہیں ہوگا
۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عوام کو عوامی توقعات کی مطابق ثمرات نہیں پہنچا سکے جو عوام کا بنیادی مسلۂ ہے۔ حکومت نے اداروں کو سبسیڈی دینا بند کردی جس کی وجہ سے اداروں کو اپنی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا نا گزیر ہوگیا اور جہاں بیٹھ کر کھانے کا رواج تھا انکے لئے ایک مشکل وقت شروع ہوگیا۔ اب ان ساری صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایسے لوگوں کیلئے سوائے اسکے کہ وہ چوربازاری کو فروغ دیں اور سماجی ابلاغ پر حکومت کے خلاف چلنے والی بے سر وپا تحریکوں کا حصہ بنیں کچھ باقی نہیں پچا تھا۔ حکوت ابھی اس صورتحال سے گزر ہی رہی تھی کہ کورونا نامی وباء نے ساری دنیا کی معیشت کو تحس نحس کر کے رکھ دیا یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس نے ترقی یافتہ ملکوں کی معیشتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اللہ کے کرم سے پاکستان شائد ہو واحد ملک تھا جہاں نقصانات کا تخمینہ جتنا بھی ہو لیکن متاثرہ افراد کی تعداد قابل براداشت رہی۔
وزیر اعظم عمران خان صاحب بطور عوام یہ بات بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ فیصلے جذباتی طور پر نہیں کرتے اور نا ہی کرینگے، کیونکہ پاکستان اب کسی جذباتی فیصلے کا محتمل نہیں ہوسکتا اور ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ریاست مدینہ کے نظام کیلئے بات کی ہے ریاست مدینہ ہمیں نظام خلافت کی طرف توجہ دلاتی ہے جہاں فیصلے بہترین دماغ کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں وزیر اعظم صاحب آپ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرینگے اور ایسے لوگوں کو منہ کی کھانی پڑے جو ملک کو کسی حال میں ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store