عوام و خواص اور طبقات خواص

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ

ہمارے معاشرے میں دو طبقات یا دو عوامل پائے جاتے ہیں؛ عوام و خواص

عوام کون ہوتے ہیں؟ پاکستانی معاشرے میں عوام ان لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جو بیچارے غریب و نادار ہیں۔ نہیں! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دیکھا دیکھی سب کچھ کرتے ہیں۔ سوچتے نہیں ہیں، پرکھتے نہیں ہیں، سوچ بچار سے کام نہیں لیتے، نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، معیارات کے اوپر تول کر کوئی کام نہیں کرتے!خواص وہ لوگ ہیں جو اپنے لئے خاص راستہ رکھتے ہیں۔ معاشرہ میں اپنا مقام و مرتبہ تعمیر کرنے کے خواہاں رہتے ہیں، نمایاں ہوتے ہیں، لوگوں کے اندر اثر انداز ہوتے ہیں، مثبت و منفی دونوں کردار ادا کرتے ہیں!
یہ خواص ہی ہیں جنہوں نے تواریخ کے اہم ترین موڑ ایجاد کیے، پسماندہ قوموں کو پسماندگی سے نکالا، قوموں کو ترقی یافتہ بنایا اور ترقی شدہ قوموں کو زوال پذیر کیا۔ خواص ہی کے ذریعہ ذلت و غلامی میں گرفتار لوگ آزاد ہوئے۔ عوام کی اصلاح و بقا خواص کے ہاتھ میں رہتی ہے، جدھر چاہیں عوام کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آجکل سیاست دان عوام کے شعور سے بخوبی کھیل رہے ہیں!
خواص کی حیثیت معاشرے میں چرواہے یا ڈرائیور کی ہوتی ہے۔ اور عوام ریوڑ یا گاڑی کے پرزوں کی مانند ہیں کہ جہاں یہ گاڑی انہیں لے گئی یہ وہیں جاتے ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد نورانی ہے کہ میری امت کے عوام اصلاح نہیں پائیں گے جب تک میری امت کے خواص ٹھیک نہیں ہوجاتے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کی امت کے خواص کون ہیں؟ فرمایا : چار قسم کے لوگ میری امت کے خواص ہیں:

1. علماء
2. الملوک
3. اہل عبادت
4. تجار

کسی قوم کا بادشاہ، سلطان، حاکم، حکمران، سیاسی رہنما، حکومتی افسران جو بھی حکومتی اختیار رکھتے ہیں، ملوک کے زمرے میں شمار کیے جائیں گے۔ یہ خواص امت کہلاتے ہیں۔
اس طرح اہل علم، اہل قلم، اہل دقت و دانش، علم و آگاہی رکھنے والے افراد کا شمار بھی خواص میں ہوتا ہے جو عوام پر کافی رعب و اثر رکھتے ہیں۔ جب عالم فاسد ہو جائے تو پوری امت فاسد ہوجاتی یے۔
زاہد، متقی، پرہیزگار اور وہ افراد جنکی شہرت ہی انکی عبادت و زہد کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان میں بھی اہل عبادت معنوی شخصیات سمجھے جاتے ہیں۔ اگر رہنما ہی بھٹک جائے تو پھر کون ہوگا اس امت کے سالکین کی رہنمائی کرنے والا؟
چوتھا طبقہ اہل دولت و اہل ثروت اور تاجر حضرات ہیں، انکا بھی معاشرے کے اندر گہرا اثر ہوتا ہے۔ تجار کے بارے میں رسول نے بھی فرمایا کہ اہل دولت ہیں امین مال خدا، اگر یہ امانت دار نہ ہوتے تو پھر کس کے اوپر اعتبار کیا جاتا؟

عین ممکن ہے کہ یہ خواص ایک چہرے کے ساتھ ظاہر ہوں اور امت کو عروج تک پہنچا دیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store