اسلام آباد:حکومت نے ملک میں نیٹ ورک کی توسیع اور پانچویں نسل (پانچ جی) کی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے فریکوئنسی اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی کی دوبارہ تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔
وزارتِ اطلاعات و مواصلات نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فریکوئنسی اسپیکٹرم کے مؤثر استعمال سے ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع۔
ٹیلی ڈینسٹی میں اضافہ اور موبائل براڈبینڈ خدمات کے معیار میں بہتری ممکن ہے، جو کہ ملک میں پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے اہم قدم ہے۔
وزارت نے بتایا کہ پاکستان میں اب تک 700 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز کا کمرشل سیلولر خدمات کے لیے استعمال عالمی معیار کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
ماضی میں 2014، 2016، 2017 اور 2021 میں اسپیکٹرم کی نیلامی ہو چکی ہے، جن کے تحت مختلف بینڈز میں اسپیکٹرم سیلولر کمپنیوں کو الاٹ کیا گیا تھا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی ہدایت پر ایک مشاورتی کمیٹی کے تحت آئندہ فریکوئنسی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
کمیٹی کی ابتدائی تشکیل 6 نومبر 2023 کو ہوئی تھی، جبکہ اس میں 28 جون 2024 کو ترامیم کی گئیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ وزارت صنعت و پیداوار نے درخواست دی تھی کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے۔
اسی پیش نظر کمیٹی کی نئی تشکیل میں مذکورہ معاون خصوصی کے ساتھ ساتھ متعلقہ وزراء اور سیکرٹریز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارتِ اطلاعات و مواصلات کی جانب سے پیش کی گئی سمری اور کمیٹی کی نئی تشکیل کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔
جو ملک میں جدید موبائل براڈبینڈ خدمات کے فروغ اور پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔