جمال خاشقجی قتل: امریکا میں 16 سعودی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد

سعودی صحافی جمال خاشقجی فائل فوٹو سعودی صحافی جمال خاشقجی

امریکا نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے شبے میں 16 سعودی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ان 16افراد کے نام جاری کیے گیے تھے اور انہیں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، غیر ملکی آپریشنز اور ریلیٹڈ پروگرامز اپروپریشنز ایکٹ کے دائرہ کار میں نامزد کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ جس شق کے تحت ان افراد کو نامزد کیا گیا ہے اس کے مطابق اسٹیٹ سیکریٹری کو یہ مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ غیرملکی حکومتوں کے عہدیداران کرپشن یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہ تمام افراد اور ان کے اہلخانہ امریکا میں داخلے کے لیے نااہل ہیں۔

بیان میں کہا گیا جی ’ قانون کے تحت ضروری ہے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو ایسے عہدیداران اور ان کے اہلخانہ کو عوامی اور نجی سطح پر نامزد کرے‘۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس سے قبل 2 درجن سعودی عہدیداران کے ویزے منسوخ اور دیگر 17 کے اثاثے منجمد کردیے تھے۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، چند روز قبل اس ٹیم کی سربراہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔

install suchtv android app on google app store