امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تین امریکی خبررساں اداروں نے مقدمہ درج کرا دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی خبر رساں اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
تینوں اداروں نے وائٹ ہاؤس تک رسائی پر پابندی کے خلاف امریکی عدالت سے رجوع کیا۔
تینوں اداروں کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کی رسائی اور پریس اسناد منسوخ کرنے کا اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادی صحافت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس میں کوریج کرنے سے روک دیا تھا۔
تینوں اداروں نے عدالت سے فوری طور پر وائٹ ہاؤس تک صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جعلی خبریں قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور اسے ابھی روکنا چاہیے۔
ان کا آزاد صحافت سے متعلق کہنا تھا کہ وہ آزاد صحافت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس آزاد صحافت نہیں بلکہ امریکا میں پھیلائی جانے والی جعلی خبروں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ یہ مضحکہ خیز اور نہ ختم ہونے والی جنگ ختم ہونی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس کی بڑی تعداد میں ڈیزل ریفائنریاں دھماکوں کے نتیجے میں تباہ یا غیر فعال ہوچکی ہیں، جس کے باعث روس میں ڈیزل آئل کی صنعت پر کنٹرول ختم ہوچکا ہے۔