ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست سے ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی عالمی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے لیکن ایران اسے قریب دیکھ رہا ہے جبکہ دفاعی صلاحیت اور طاقتور ایران ہی دشمن کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو کوئی رعایت دینے سے بھی تعلقات میں بہتری کی امید رکھنا بڑی غلط فہمی ہے۔
آج منگل کو ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ریپلکن کو شکست ہوئی ہے اور ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی گورنر کے انتخابات جیت لیے ہیں جہاں پہلے ریپبلکنز کی حکومت تھی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ کسی جارحیت کی صورت میں ایران کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو گا جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کرنا اور آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا امریکی بالادستی کے خلاف ایران کی مہم کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی عالمی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے لیکن ایران اسے قریب دیکھ رہا ہے جبکہ دفاعی صلاحیت اور طاقتور ایران ہی دشمن کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت متعدد مواقع پر واضح کرچکی ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور عملی اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے جبکہ صرف بیانات اور سفارتی رابطوں سے اعتماد بحال نہیں ہوسکتا بلکہ امریکا کو اپنی پالیسی میں عملی تبدیلی لانا ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے اور ایران اس پیغام کی حمایت کرتا ہے۔ جبکہ ایرانی نائب اسپیکر علی نیک زاد نے خبردار کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی فوجی مہم جوئی سے گریز کرنا چاہیے، بصورت دیگر اسے سخت جواب ملے گا۔
رائٹرز کے مطابق غیر ملکی اشیاء پر عائد محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ نے بہت سے امریکیوں کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے کا دفاع کیا تاہم ان کی مقبولیت میں بھی کمی آتی رہی۔
گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا تھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر جواب دیا جائے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ تہران کا جوہری پروگرام، امریکی اقتصادی پابندیاں اور مشرق وسطیٰ میں دونوں ممالک کے متضاد تزویراتی مفادات ہیں۔ ایران کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام کا باعث ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی فوجی سرگرمیوں اور علاقائی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گزشتہ دنوں اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوری حملے کا کوئی ارادہ نہیں اور ممکن ہے کہ حملے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکا بندی نے تہران کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، امریکا ایران سے بات چیت کر رہا ہے اور اب دیکھنا ہے کہ معاملات آگے کس سمت جاتے ہیں۔