ایران کا کہنا ہےکہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے، ہمارے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی نیت اچھی ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے بعد اب کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر اعتماد نہیں کرسکتا، ہم نےگزشتہ روز واضح کردیا تھا ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے وزیر خارجہ پڑوسی ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں، پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے وزرائےخارجہ سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں ہوئیں، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کی نیک نیتی کو سمجھتے ہیں، علاقائی ریاستیں اور پڑوسی ممالک اس صورتحال کے نتائج پر تشویش رکھتے ہیں، ہر کوئی کسی نہ کسی طرح حالات کو بہتر بنانےکی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک نے تہران اور واشنگٹن کےدرمیان مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی، خطے اور باہرکےکئی ممالک نے ایران سے رابطہ کیا ہے، ان ممالک نے ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنےکی پیشکش کی ہے، ہمیں اس نوعیت کے مذاکرات سے متعلق درخواستیں ملیں اور ہم نے ان کا جواب دیا، ہمارا مؤقف واضح ہےکہ ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے، ایران کے ساتھ مذاکرات کی امریکی اور اسرائیلی باتیں قابل اعتبار نہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے بعد اب کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر اعتماد نہیں کرسکتا، ہم نےگزشتہ روز واضح کردیا تھا ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے، ہمیں امریکی سفارتکاری کا نہایت تباہ کن تجربہ ہوا ہے، ہم پر 9 ماہ کے عرصے میں دو مرتبہ مذاکرات کے دوران حملہ کیا گیا، حملہ اس وقت ہوا جب ہم جوہری مسئلے کےحل کے لیے مذاکرات کے عمل کے درمیان تھے، مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ سفارتکاری سےغداری تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا، ایرانی مسلح افواج ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں، ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے فیس وصولی یقینی جاری رکھےگا، ایران پر مسلط کردہ جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے متعدد اقدامات نافذ ہیں، آبنائے ہرمز یا مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کی شرائط کے متعلق ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ بعض دوست ممالک کےذریعےامریکا کی جانب سے جنگ کےخاتمےکے لیے مذاکرات کی درخواست کی گئی، دوست ممالک کے ذریعے امریکی درخواست پر ایران نے اپنے اصولوں کے مطابق مناسب جواب دیا ہے، ان جوابات میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پرکسی بھی حملے کے سنگین نتائج سے متعلق ضروری انتباہ بھی دیا گیا، یہ واضح کیا گیا ایسی کسی صورتحال میں ایرانی مسلح افواج فوری، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دے گی، ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔